پاکستان

پانی روکنا اقدام جنگ تصور کیا جائیگا، پاکستانی سفیر نے امریکی میڈیا کو بتادیا

  • سندھ طاس معاہدہ کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، رضوان سعید شیخ
شائع May 25, 2025 اپ ڈیٹ May 25, 2025 09:07am

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ 25 کروڑ آبادی کے لیے پانی کی بندش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

امریکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر رضوان سعید شیخ نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور معاہدے میں ایسے کسی اقدام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حمایت نہیں کرے گی۔

پاکستانی سفیر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے، انہوں نے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں امریکی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے حامی ہیں اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی قیادت کی اشتعال انگیز بیانات خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور یہ بیانات ہندو توا کی انتہاپسندانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں بھارت کے کردار سے دنیا بے خبر نہیں۔