پانی روکنا اقدام جنگ تصور کیا جائیگا، پاکستانی سفیر نے امریکی میڈیا کو بتادیا
- سندھ طاس معاہدہ کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، رضوان سعید شیخ
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ 25 کروڑ آبادی کے لیے پانی کی بندش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
امریکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر رضوان سعید شیخ نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور معاہدے میں ایسے کسی اقدام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حمایت نہیں کرے گی۔
پاکستانی سفیر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے، انہوں نے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں امریکی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے حامی ہیں اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی قیادت کی اشتعال انگیز بیانات خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور یہ بیانات ہندو توا کی انتہاپسندانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں بھارت کے کردار سے دنیا بے خبر نہیں۔