بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات 19.316 ارب ڈالر ہوں گی، جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.7 فیصد بنتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 27-2026 میں یہ ضرورت بڑھ کر 19.757 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ رپورٹ کا عنوان تھا ”توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے، کارکردگی کے معیار میں ترمیم کی درخواست، اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی ( آر ایس ایف) کے تحت انتظام کی درخواست“۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پروگرام کے لیے آئندہ 12 ماہ کی مالی ضروریات کے لیے مکمل مالی انتظام موجود ہے، اور باقی مدت کے لیے بھی مثبت امکانات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای ایف ایف کی منظوری سے پہلے جو مالی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، اس میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، اور 2.6 ارب ڈالر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں یا آئندہ مہینوں میں جاری ہونے کی توقع ہے، جن میں سعودی عرب، اسلامی ترقیاتی بینک، اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جزوی ضمانت سے حاصل ہونے والا کمرشل قرض شامل ہے۔
مزید ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کے لیے بھی آئندہ 12 ماہ میں پختہ وعدے موجود ہیں۔ اہم دوطرفہ شراکت داروں نے پروگرام کی باقی مدت کے دوران قلیل مدتی قرضوں کی تجدید پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی قرض ادائیگی کی صلاحیت میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم یہ اب بھی نمایاں خطرات سے دوچار ہے اور پالیسی پر عمل درآمد اور بروقت بیرونی مالی امداد پر شدید انحصار کرتی ہے۔
2027 کے ستمبر میں آئی ایم ایف کا پاکستان پر مجموعی انحصار 9,466 ملین ایس ڈی آر (پاکستان کے کوٹے کا 466 فیصد اور متوقع زرمبادلہ ذخائر کا تقریباً 51 فیصد) تک پہنچ جائے گا۔
پاکستان کے آئی ایم ایف کے ذمے واجب الادا قرض کی شرح، زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے میں، ہم پلہ ممالک کے 75 فیصد سے زیادہ ہے۔ تینوں بنیادی اشاریے – یعنی آئی ایم ایف کو قرض واپسی کی شرح حکومتی آمدن، برآمدات، اور زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے میں – بھی ہم پلہ ممالک کے 75 فیصد سے زیادہ ہیں، جو سنگین خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پالیسی پر مستقل عملدرآمد میں رکاوٹیں، ٹیکس آمدن میں کمی، زیادہ مالیاتی ضروریات، کم زرمبادلہ ذخائر، اسٹیٹ بینک کی خالص فارن ایکسچینج ڈیریویٹیو پوزیشن، اور سماجی و سیاسی تناؤ قرض کی واپسی کی صلاحیت اور قرضوں کی پائیداری کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر جیو اکنامک غیر یقینی صورتحال، اور پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے مالی حالات بھی خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے سرکاری قرض دہندگان کی طرف سے بروقت اور قابلِ بھروسا مالی معاونت نہایت ضروری ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد ٹیرف اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے ردعمل سے پاکستان کی برآمدات اور جی ڈی پی پر دباؤ پڑے گا، جس کی وجہ سے مالی سال 2025 میں معمولی اور 2026 میں تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹس کی شرح سے شرح نمو کم ہونے کا امکان ہے۔
یہ اثر صرف امریکہ کو برآمدات پر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر تجارتی شراکت داروں کی معیشتوں، سخت عالمی مالیاتی حالات، ممکنہ طور پر کم تر رقومِ ترسیلات، اور تجارتی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کے ذریعے بھی منتقل ہو گا۔
تاہم، حالیہ عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی اور معاشی سرگرمی کی سست رفتاری کی وجہ سے درآمدی بل میں کمی کا امکان ہے، جو ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کو کسی حد تک کم کر دے گا۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اگر زرمبادلہ کے اخراجات کا دباؤ بڑھتا ہے تو شرح مبادلہ کو مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ ہونے دینا نہایت اہم ہوگا۔ مہنگائی پر بھی مجموعی اثر کم رہے گا کیونکہ کم کموڈیٹی قیمتوں اور سست اقتصادی نمو کی وجہ سے کچھ حد تک دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
آخر میں آئی ایم ایف نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول کے پیش نظر، پالیسی اور ساختی اصلاحات پر مستقل اور بروقت عملدرآمد انتہائی اہم ہے، کیونکہ کسی بھی تاخیر یا انحراف سے معیشت کی بحالی، قرضوں کی پائیداری، اور بیرونی مالی معاونت کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025