غزہ میں مزید سیکڑوں فلسطینی شہید، اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ؛ جنگ بندی مذاکرات ناکام
- رات بھر جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 130 فلسطینی شہید ہوئے
اسرائیلی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں ”وسیع پیمانے پر زمینی آپریشنز“ کا آغاز کر دیا ہے، جو ایک نئی مہم کا حصہ ہے۔ دریں اثنا فلسطینی صحت حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات بھر جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 130 افراد شہید ہو گئے ہیں۔
اسرائیل نے یہ اعلان اس وقت کیا جب دونوں جانب کے ذرائع نے کہا کہ قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے بدلے حماس کے جلاوطن ہونے اور غزہ کے علاقے کی غیر عسکری حیثیت کے حوالے سے بات چیت شامل تھی، جن شرائط کو حماس نے پہلے مسترد کر دیا تھا۔
یہ بیان اسرائیل کے سابقہ بیانات کے ہم آہنگ تھا، مگر مذاکرات کے دوران اس وقت کا انتخاب اسرائیل کی پوزیشن میں کچھ لچک کی امید پیدا کرتا تھا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اب تک مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے غزہ میں حماس کے 670 سے زائد اہداف پر ابتدائی فضائی حملے کیے ہیں تاکہ ”جدعون کی رتھ“ نامی اپنی نئی زمینی مہم کی حمایت کی جا سکے، جو ”آپریشنل کنٹرول“ حاصل کرنے کے لیے غزہ کے کچھ حصوں میں شروع کی گئی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس نے حماس کے درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اتوار تک صرف ایک ہفتے میں کم از کم 464 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ راتوں رات 130 کے قریب فلسطینیوں کی شہادت اس تعداد کے علاوہ ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان خلیل الدقران نے رائٹرز کو فون پر بتایا کہ ”اسرائیلی بمباری نے (راتوں رات) مکمل خاندانوں کو شہری رجسٹریشن کے ریکارڈ سے مٹا دیا۔“
اسرائیلی مہم نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے 23 لاکھ افراد میں سے تقریباً تمام کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 53,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے مارچ کے آغاز سے غزہ میں طبی، غذائی اور ایندھن کی فراہمی کو روک رکھا ہے تاکہ حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرے اور ایسی منصوبہ بندی کی منظوری دی ہے جس کے تحت پورے غزہ کے علاقے کو قبضے میں لے کر امداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین نے قحط کے سائے منڈلانے کے خطرے کی وارننگ دی ہے۔
اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا
قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں پوچھے جانے پر حماس کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ”اسرائیل کی پوزیشن بدستور وہی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بغیر یرغمالیوں (اسیران) کی رہائی چاہتے ہیں۔“ حماس اب بھی یہ تجویز دے رہی ہے کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کیا جانے کے بدلے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا انخلا، غزہ کے لیے امداد کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی جائے۔
اسرائیل کا غزہ میں اعلان کردہ مقصد حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کا خاتمہ ہے۔
اسرائیلی اور عرب میڈیا میں یہ اطلاعات تھیں کہ حماس کے رہنما محمد سنوار کو ممکنہ طور پر شہید کر دیا گیا ہے، جس سے دوحہ مذاکرات میں پیچیدگیاں آ سکتی ہیں، جو ہفتہ کو شروع ہوئے تھے۔
حماس نے ان رپورٹس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ اسرائیل کی وزارت دفاع نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
غزہ کے طبی عملے نے کہا ہے کہ پہلے کی رپورٹس کے برعکس غزہ کی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے لیکچرار اور حماس کے موجودہ اور سابق رہنماؤں کے بھائی زکریا السنوار زندہ ہیں لیکن ان کی حالت تشویشناک ہے۔
انہیں پہلےشہید سمجھ کر تین بچوں کے ساتھ مردہ خانہ میں رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ وہ ابھی سانس لے رہے ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان دقران نے کہا کہ ”اسپتال زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے دباؤ کا شکار ہیں، جن میں سے بیشترزخمی بچے ہیں۔“
اسرائیل میں حماس کے یرغمالی مٹن زنگاؤکر کی والدہ، ایناو زنگاؤکر نے کہا کہ نیتن یاہو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ ختم کرنے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے سیاسی مفادات کے خلاف ہے۔
زنگاؤکر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ”اسرائیلی حکومت ابھی تک صرف جزوی معاہدوں پر اصرار کر رہی ہے۔ وہ جان بوجھ کر ہمیں اذیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے بچوں کو واپس لے آؤ! سب کے سب 58 بچوں کو واپس لے آو!“
خیموں میں آگ
طبی عملے نے بتایا کہ گزشتہ شب اسرائیل فوج نے ایک فضائی حملے میں جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں بے گھر خاندانوں کی خیمہ بستی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد خواتین اور بچے شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ خیموں میں آگ لگ گئی۔
بعد ازاں اتوار کے روز غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں واقع انڈونیشیائی اسپتال، جو کہ جزوی طور پرفعال سب سے بڑی طبی سہولتوں میں سے ایک ہے، اسرائیلی فائرنگ کے باعث بند ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجی ”شمالی غزہ میں دہشت گردی کی انفرااسٹرکچر سائٹس“ کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں انڈونیشیائی اسپتال کے قریبی علاقہ بھی شامل ہے۔
غزہ میں صحت کا نظام بمشکل کام کر رہا ہے اور امداد کی ناکہ بندی نے اس کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسرائیل حماس پر امداد چوری کرنے کا الزام لگاتا ہے، جسے حماس نے مسترد کیا ہے۔
غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے عملے نے بتایا کہ رات بھر 40 شہداؑ کے اجساد خاکی اور درجنوں زخمی اسپتال لائے گئے اور ان کے لئے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی۔
فلسطینی سول ایمرجنسی سروس نے کہا کہ تیل کی کمی کی وجہ سے 75 فیصد ایمبولینسیں غیرفعال ہوگئی ہیں جبکہ مزید خبردار کیا گیا ہے کہ 72 گھنٹوں کے اندر تمام گاڑیاں ایندھن نہ ملنے سے رک سکتی ہیں۔