روس کے مسلسل رات بھر ڈرون حملے میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کے علاقے اوبوخیوو میں ایک خاتون ہلاک اور کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے، جن میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ یوکرینی حکام نے اتوار کی صبح اس واقعے کی تصدیق کی، جبکہ ماسکو نے جمعہ کو امن مذاکرات کے بعد اپنی فوجی کارروائیوں میں شدت کر دی ہے۔
کیف کے گورنر مائیکولا کالاشنک نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ دشمن کے حملے کے باعث اوبوخیوو ضلع میں ایک خاتون اپنی زخمی حالت میں چل بسی۔ اس کے علاوہ، کیف اور اس کے آس پاس کے علاقوں سمیت یوکرین کے مشرقی حصے میں چھ گھنٹے تک ہوائی حملے کی وارننگ جاری رہی۔ یوکرین کی فوجی دستوں نے کئی بار ہوائی دفاعی کارروائیاں کیں تاکہ حملوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب روس اور یوکرین کے درمیان تین سال بعد استنبول میں براہِ راست مذاکرات ہوئے، مگر وہ جنگ بندی پر کامیاب نہ ہو سکے۔ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے ایک ہزار قیدیوں کی ایک دوسرے کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یوکرین کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ اینڈری کووالینکو نے کہا کہ روس مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے لیے حملوں کا سہارا لیتا ہے۔
سومئی علاقے میں بھی روسی ڈرون حملے میں نو شہری ہلاک ہوئے، جس پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اسے ”جان بوجھ کر حملہ“ قرار دیا اور ماسکو پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ روس نے اس حملے کو ایک فوجی تنصیب پر کارروائی قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور زیلنسکی سے بات کریں گے۔
روسی ڈرون حملوں کی شدت کے باعث یوکرین کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں ڈرونز کے پرواز کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا اور کئی رہائشی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ دونوں فریقین شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں، لیکن اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت یوکرینی شہری ہیں۔