دنیا

پاکستانی ذہین لوگ، نظر انداز نہیں کرسکتے، ڈونلڈ ٹرمپ

  • ہم ان کے ساتھ زیادہ تجارت نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود میرے ان سے اچھے تعلقات ہیں، امریکی صدر
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے اسلام آباد کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے پاکستانیوں کو ذہین قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی ذہین لوگ ہیں، وہ حیرت انگیز اور شاندار مصنوعات بناتے ہیں، ہم ان کے ساتھ زیادہ تجارت نہیں کرتے اور پھر بھی میرا ان کے ساتھ اچھا تعلق ہے۔ انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ تجارت کا خواہشمند ہے۔

امریکہ پاکستان کا سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں 2024 تک سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کی امریکہ سے درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر ہیں۔

اپریل کے دوران ٹرمپ نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع ٹیکسز عائد کر کے ممکنہ تباہ کن تجارتی جنگ شروع کی اور اہم تجارتی شراکت داروں پر اضافی سخت محصول لگائے۔ پاکستان پر 29 فیصد متقابل ٹیکس عائد کیا گیا تھا جسے جولائی تک معطل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے مزید مصنوعات خریدنا چاہتا ہے اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ ٹرمپ کے سخت محصولات سے بچا جاسکے۔

فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کروایا جسے انہوں نے بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان صورتحال اتنی کشیدہ ہو گئی تھی کہ ایٹمی جنگ تک چھڑسکتی تھی۔

میرے خیال میں ایٹمی جنگ ہونے والی تھی یا کم از کم بہت قریب تھی،نفرت کافی بڑھ گئی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے دونوں ممالک سے کہا کہ ہم تجارت پر بات کریں گے، ہم بہت زیادہ تجارت کریں گے۔

ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اپنی بھرپور مشاورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان سے زبردست بات چیت ہوئی۔ دیکھیے ہم پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنی تجارتی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ حساب برابر کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے تجارت کو استعمال کررہے ہیں۔

گزشتہ ماہ پہلگام حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں، نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا جس سے دوطرفہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تاہم گزشتہ ہفتے بھارت کی جانب سے پاکستان میں مبینہ ”دہشت گرد کیمپس“ پر حملے کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ دونوں ممالک نے ہفتے کو جنگ بندی پر اتفاق کیا جو اب تک بڑی حد تک برقرار ہے۔