بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ شدید جھڑپوں کے بعد ہفتے کے روز سے نافذ ہونے والی جنگ بندی اتوار کے روز بھی مؤثر رہی، اگرچہ دونوں ممالک نے ابتدائی خلاف ورزیوں کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی روابط ”نمایاں طور پر بڑھانے“ کا عندیہ بھی دیا۔
چار دن کی شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس دوران دونوں جوہری طاقتوں نے ایک دوسرے کے فوجی مراکز پر میزائلوں اور ڈرون حملوں کا تبادلہ کیا۔ اس تصادم میں تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی سفارتی کوششوں اور دباؤ نے اس جنگ بندی کے معاہدے کو ممکن بنایا، تاہم اس کے نافذ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں توپ خانے کی گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئیں۔
مقامی حکام، رہائشیوں اور عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرحدی علاقوں میں ہفتے کی شب بلیک آؤٹ کے دوران فضائی دفاعی نظام کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو گزشتہ دو راتوں کی طرح شدید تھیں۔
ہفتے کی رات دیر گئے بھارت نے پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ پاکستانی حکام نے جنگ بندی سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے خلاف ورزی کا الزام بھارت پر عائد کیا۔ اتوار کی صبح لڑائی میں کمی آئی اور بجلی کی فراہمی بھی بحال کر دی گئی۔
بھارتی فوج کے مطابق آرمی چیف نے فوجی کمانڈروں کو ”کائنیٹک ڈومین“ میں مؤثر کارروائی کی مکمل اجازت دے دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کا فوری جواب دیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں دلیرانہ اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر کہا کہ میں دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کام کروں گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ کشمیر کے حوالے سے ایک پائیدار حل ممکن ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ لاکھوں بے گناہ افراد کی زندگیاں خطرے میں تھیں، مگر آپ کی بصیرت اور فیصلہ کن قیادت نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی صدر کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو یقینی بناتے ہوئے حل ہونا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے کی قیمتی پیشکش پر ان کے شکر گزار ہیں۔
جھڑپوں سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد سرحدی علاقوں کے رہائشی تھے، جنہوں نے بدھ سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا۔ بھارتی شہر امرتسر میں اتوار کی صبح معمولات زندگی بحال ہونے پر لوگ سڑکوں پر واپس آئے، جبکہ کچھ علاقوں میں اب بھی واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پاکستانی کشمیر کے علاقے کھوئی رٹہ سے نقل مکانی کرنے والے شہری اعظم چوہدری نے کہا، ہمیں یہاں اچھی میزبانی ملی ہے، لیکن اپنا گھر ہی اصل سکون دیتا ہے، چاہے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے اڑی میں پاکستانی ڈرون حملے سے متاثرہ ایک ہائیڈرو پاور پلانٹ کی مرمت جاری ہے۔ بھارتی فضائیہ نے بھی کہا ہے کہ ان کی آپریشنل سرگرمیاں جنگ بندی کے باوجود جاری رہیں گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق رات کے وقت بھمبر کے علاقے میں کچھ فائرنگ ہوئی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ کشیدگی اور اس کے بعد کی جنگ بندی ایک بار پھر خطے میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور عالمی سفارتی کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔