جاوید احمدجی حیسکول پٹرولیم کے سی ای او مقرر
حیسکول پٹرولیم لمیٹڈ نے 5 مئی 2025 سے جاوید احمدجی کو اپنے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر تعینات کرلیا ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس کے ذریعے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
او ایم سی کے مطابق احمد جی ایک سینئر ایگزیکٹو اور کاروباری شخصیت ہیں جن کے پاس توانائی، بینکنگ، دواسازی، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور کیپٹل مارکیٹ کے شعبوں میں 30 سال سے زائد کا تجربہ ہے۔
کمپنی نے کہا کہ ان کی قیادت پاکستان، افریقہ اور یورپ میں پھیلی ہوئی ہے اور انہوں نے فورچیون 500 کمپنیوں اور مقامی اداروں میں اہم عہدوں پر کام کیا ہے۔
نوٹس کے مطابق احمدجی نے پاکستان کے سب سے بڑے فارماسیوٹیکل انضمام میں اہم کردار ادا کیا اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پیچیدہ ایم اینڈ اے کی کامیاب تکمیل کی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے پوما انرجی کی بحالی کی قیادت کی اور اسے ایک تجارتی طور پر قابلِ عمل اور مستقبل کیلئے تیار ادارے میں تبدیل کردیا۔
مزید برآں احمد جی سٹی بینک، جی ایس کے، پوما انرجی، شجر کیپٹل اور کراچی پورٹ ٹرسٹ جیسے اداروں کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
حیسکول کے مطابق یہ تقرری کمپنی کیلئے ایک اہم قدم ہے، ہم انہیں بورڈ میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
شیئر ہولڈرز کی مسلسل حمایت کے ساتھ بورڈ مضبوط گورننس اور مؤثر قیادت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ تقرری حیسکول کے لیے جاری چیلنجز کے پس منظر میں کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ سال 2022 میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے حیسکول پٹرولیم لمیٹڈ کے بانی ممتاز حسن کو 54 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا تھا۔
ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل نے 30 مشتبہ افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا جن میں نیشنل بینک آف پاکستان اور حیسکول کے سابقہ اور موجودہ افسران شامل ہیں اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا، جب حیسکول پٹرولیم کمپنی کی جانب سے 54 ارب روپے سے زائد کے بینک ڈیفالٹ، مالی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے بارے میں تحقیقات میں شواہد سامنے آئے تھے، جیسا کہ اس وقت ایف آئی اے کے ایک بیان میں کہا گیا تھا۔
اس کے بعد حیسکول کے بورڈ نے کمپنی کے 54 ارب روپے کے قرضے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کیا۔