بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈیجیٹل کریک ڈاؤن میں شدت لاتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف کے آفیشل یوٹیوب چینل تک بھارتی صارفین کی رسائی بند کر دی ہے۔ یہ اقدام 22 اپریل کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستانی میڈیا اور ڈیجیٹل مواد کے خلاف وسیع تر کارروائی کا حصہ ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے یوٹیوب پروفائل تک رسائی کی کوشش کرنے والے صارفین کو اب یہ پیغام موصول ہوتا ہے:یہ مواد اس ملک میں قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے متعلق حکومت کے حکم کی وجہ سے فی الحال دستیاب نہیں ہے۔
یہ سب سے نمایاں پابندی ہے جو اس سے قبل پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے یوٹیوب چینلز پر بھی عائد کی جا چکی ہے۔
بھارتی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کئی پاکستانی اکاؤنٹس جیو ری اسٹرکٹ کرنے کی ہدایات دی ہیں، جن پر مبینہ طور پر بھارت مخالف بیانیہ پھیلانے کا الزام ہے۔
اس کریک ڈاؤن کا ایک اہم پہلو ان معروف پاکستانی کرکٹرز کو نشانہ بنانا ہے جن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ناظرین میں مقبول ہیں۔ موجودہ اور سابق کھلاڑیوں کے انسٹاگرام اور یوٹیوب چینلز بھارتی صارفین کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ پابندیاں صرف سیاست اور کھیل تک محدود نہیں رہیں۔
30 اپریل کو پاکستان کی معروف اداکاراؤں ماہرہ خان اور ہانیہ عامر کے انسٹاگرام پروفائلز بھارتی صارفین کے لیے بند کر دیے گئے۔ دیگر مشہور شخصیات جیسے علی ظفر اور فواد خان کو بھی حالیہ دنوں میں اسی قسم کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے بھارت میں 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے جن میں ڈان نیوز، سما ٹی وی، اے آر وائی نیوز اور جیو نیوز شامل ہیں۔