سپریم کورٹ نے سر فیکٹنٹ کیمیکلز کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کراچی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان مصنوعات پر زیرو فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ دینے سے انکار کر دیا جو ایچ ایس کوڈ 3402.1300 اور 3402.1190 کے تحت درآمد کی گئی تھیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ایس آر او 565(I)/2006، مؤرخہ 5 جون 2006 اور اس میں ترمیم شدہ ایس آر او 474(I)/2016، مؤرخہ 24 جون 2016 کے تحت زیرو فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے مستحق ہیں۔ تاہم وزارت خزانہ اور کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے اس سے انکار کر دیا تھا، جس پر کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ خود زرعی پیسٹی سائیڈز بنانے والا ادارہ نہیں بلکہ صرف ایسے کیمیکل (اسٹیبلائزرز، ایمولسیفائرز، سالوینٹس) درآمد کرتا ہے جو پیسٹی سائیڈز بنانے میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے رجسٹریشن یا منظوری ضروری نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زیرو فیصد ڈیوٹی کی رعایت مشروط ہے، اور متعلقہ ایس آر او کے تحت صرف وہ درآمد کنندگان استثنیٰ کے حقدار ہیں جنہیں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے زرعی پیسٹی سائیڈز بنانے یا فارمولیشن کے لیے باقاعدہ طور پر منظور کیا ہو۔ چونکہ درخواست گزار کو ایسی کوئی منظوری حاصل نہیں، اس لیے وہ رعایت کا حقدار نہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ صرف ایچ ایس کوڈ کی بنیاد پر کسٹمز ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ ایس آر او میں درج تمام شرائط پوری نہ کی جائیں۔
یوں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025