بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اسپیس ایکس کی کمپنی اسٹار لنک کو ملک میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے لیے لائسنس جاری کر دیا ہے۔ اسٹار لنک زمین کے سطحی مدار میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ رسائی فراہم کرتی ہے۔
دی بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے 28 اپریل کو لائسنس کی منظوری دی تھی جس کے بعد بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں سری لنکا کے بعد اسٹار لنک سروسز شروع کرنے والا دوسرا ملک بن گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، مارچ میں، بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آر سی) نے بنگلہ دیش میں نان جیو اسٹیشنری آربیٹ (این جی ایس او) سیٹلائٹ سروسز آپریٹر لائسنسنگ گائیڈ لائنز جاری کیں۔
اس فریم ورک کے تحت اسٹار لنک سروسز بنگلہ دیش نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں این جی ایس او لائسنس کے لیے درخواست دی تھی جس میں آپریشنل اجازت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات اور فیس جمع کرائی گئی تھی۔
بعد ازاں اپریل میں بی ٹی آر سی نے اسٹار لنک آپریشن کے لئے ابتدائی منظوری دینے کا فیصلہ کیا۔
اس سال کے اوائل میں ارب پتی شخصیت اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک اور محمد یونس نے اسٹار لنک کو بنگلہ دیش لانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔
محمد یونس کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ سروس بنگلہ دیش کے کاروباری نوجوانوں، دیہی اور مالی اعتبار سے کمزور خواتین اور دور دراز مقامات پر رہائش پذیر کمیونیٹیز کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
دریں اثنا، پاکستان جو دنیا کی سب سے بڑی فری لانسنگ کمیونٹیز میں سے ایک ہے، اب بھی اسٹار لنک کے آپریشنل لانچ کا منتظر ہے۔
گزشتہ ماہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا تھا کہ اسٹار لنک کے لیے لائسنسنگ کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ فراہم کنندہ نومبر 2025 تک پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کرے گا۔
شزا فاطمہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے اجراء کے بعد ہم ضروری آلات کی تنصیب کا کام شروع کریں گے اور اسٹار لنک نومبر سے پاکستان میں دستیاب ہوگا۔
مارچ میں اسلام آباد نے اسٹار لنک کی عارضی رجسٹریشن کی منظوری دی تھی جس سے ملک میں سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی راہ ہموار ہوئی تھی۔