ٹاپ غیر ملکی کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کیلئے پی ایس ایل کو آئی پی ایل سے ٹکرائو سے گریز کرنا چاہیے، علی ترین
ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شیڈول کے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ٹکرانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں پی ایس ایل کے لیے بین الاقوامی اسٹار کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ اور برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر علی ترین نے لکھا کہ لیگ نے گزشتہ دہائی میں ڈیرن سیمی، شین واٹسن، کولن منرو اور ریلی روسو جیسے عالمی ٹی ٹوئنٹی اسٹارز کی شرکت سے زبردست فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ لیکن ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: اگر ہم آئی پی ایل کے شیڈول سے ٹکرا کر چلتے رہے تو کیا ہم آئندہ دس سال تک بھی اسی معیار کے کھلاڑی پی ایس ایل میں لا پائیں گے؟
یا ہم اپنے بہترین پرفارمرز کو ایک دو سیزن بعد آئی پی ایل کے ہاتھوں کھو دیں گے؟“
علی ترین نے واضح کیا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر پی ایس ایل کو آئی پی ایل کے ساتھ شیڈول کرنے کی حمایت کی گئی تھی، مگر اب وہ خود اس فیصلے پر نظرثانی کے قائل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ابتدائی طور پر ہم اس ٹکراؤ کے حامی تھے، لیکن اب اس ونڈو میں میچز ہونے پر اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔ خاص طور پر اس گرمی میں دن کے میچز… شاید اب اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے درمیان شیڈول کی اس ٹکراؤ نے کھلاڑیوں کی دستیابی، ناظرین کی توجہ اور تجارتی اثرات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اگرچہ 2016 میں آغاز کے بعد سے پی ایس ایل کی ساکھ مسلسل بہتر ہوئی ہے، مگر دنیا کی سب سے مقبول اور منافع بخش ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل کے ساتھ براہِ راست مقابلہ پی ایس ایل کے لیے کئی انتظامی اور اسٹریٹجک چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
یہ تبصرے ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے بجائے آئی پی ایل کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے، جس سے لیگ کی عالمی مسابقت اور آئندہ کھلاڑیوں کی بھرتی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔