BR100 Increased By (5%)
BR30 Increased By (5.87%)
KSE100 Increased By (4.23%)
KSE30 Increased By (4.7%)
BAFL 57.52 Increased By ▲ 2.02 (3.64%)
BIPL 27.62 Increased By ▲ 0.72 (2.68%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 1.97 (6.04%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.47 (4.57%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.60 (3.37%)
DGKC 213.87 Increased By ▲ 18.69 (9.58%)
FABL 101.47 Increased By ▲ 2.79 (2.83%)
FCCL 56.47 Increased By ▲ 4.73 (9.14%)
FFL 16.85 Increased By ▲ 0.36 (2.18%)
GGL 25.76 Increased By ▲ 0.70 (2.79%)
HBL 308.18 Increased By ▲ 16.18 (5.54%)
HUBC 224.39 Increased By ▲ 10.42 (4.87%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.27 (2.58%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.33 (4.62%)
LOTCHEM 27.68 Increased By ▲ 0.87 (3.25%)
MLCF 96.56 Increased By ▲ 8.39 (9.52%)
OGDC 323.45 Increased By ▲ 13.07 (4.21%)
PAEL 43.37 Increased By ▲ 2.52 (6.17%)
PIBTL 16.80 Increased By ▲ 0.95 (5.99%)
PIOC 295.89 Increased By ▲ 12.20 (4.3%)
PPL 224.67 Increased By ▲ 13.57 (6.43%)
PRL 55.51 Increased By ▲ 2.37 (4.46%)
SNGP 104.67 Increased By ▲ 6.42 (6.53%)
SSGC 25.97 Increased By ▲ 1.12 (4.51%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.36 (4.34%)
TPLP 13.18 Increased By ▲ 0.21 (1.62%)
TRG 60.05 Increased By ▲ 1.08 (1.83%)
UNITY 10.24 Increased By ▲ 0.36 (3.64%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شیڈول کے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ٹکرانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں پی ایس ایل کے لیے بین الاقوامی اسٹار کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ اور برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر علی ترین نے لکھا کہ لیگ نے گزشتہ دہائی میں ڈیرن سیمی، شین واٹسن، کولن منرو اور ریلی روسو جیسے عالمی ٹی ٹوئنٹی اسٹارز کی شرکت سے زبردست فائدہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ لیکن ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: اگر ہم آئی پی ایل کے شیڈول سے ٹکرا کر چلتے رہے تو کیا ہم آئندہ دس سال تک بھی اسی معیار کے کھلاڑی پی ایس ایل میں لا پائیں گے؟

یا ہم اپنے بہترین پرفارمرز کو ایک دو سیزن بعد آئی پی ایل کے ہاتھوں کھو دیں گے؟“

علی ترین نے واضح کیا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر پی ایس ایل کو آئی پی ایل کے ساتھ شیڈول کرنے کی حمایت کی گئی تھی، مگر اب وہ خود اس فیصلے پر نظرثانی کے قائل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ابتدائی طور پر ہم اس ٹکراؤ کے حامی تھے، لیکن اب اس ونڈو میں میچز ہونے پر اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔ خاص طور پر اس گرمی میں دن کے میچز… شاید اب اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے درمیان شیڈول کی اس ٹکراؤ نے کھلاڑیوں کی دستیابی، ناظرین کی توجہ اور تجارتی اثرات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اگرچہ 2016 میں آغاز کے بعد سے پی ایس ایل کی ساکھ مسلسل بہتر ہوئی ہے، مگر دنیا کی سب سے مقبول اور منافع بخش ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل کے ساتھ براہِ راست مقابلہ پی ایس ایل کے لیے کئی انتظامی اور اسٹریٹجک چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔

یہ تبصرے ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے بجائے آئی پی ایل کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے، جس سے لیگ کی عالمی مسابقت اور آئندہ کھلاڑیوں کی بھرتی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Comments

Comments are closed.