فنانس ڈویژن نے مالی سال 24-2023 میں وفاقی حکومت کے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر ہونے والے موجودہ اخراجات کا ڈیٹا جاری کر دیا ہے، جو کہ مجموعی طور پر 637.749 ارب روپے رہا۔

فنانس ڈویژن کے مطابق یہ اخراجات ان شعبوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے ہیں جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اپریل 2010 میں منظور ہونے والی اس ترمیم کے تحت کئی معاملات وفاقی فہرست سے نکال کر صوبائی دائرہ اختیار میں دے دیے گئے تھے، جس سے صوبوں کو مالی اور قانون سازی کی سطح پر خودمختاری ملی۔

مالی سال 24-2023 میں وفاقی حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ (جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور پاکستان بیت المال شامل ہیں) پر مجموعی طور پر 478.749 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ بی آئی ایس پی کے لیے وفاقی حکومت ہر سال گرانٹس مختص کرتی ہے۔24-2023 میں اس مقصد کے لیے 466 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

بی آئی ایس پی کا بنیادی پروگرام ”کفالت“ ہے، جس کے تحت 358.033 ارب روپے کی غیر مشروط مالی امداد فراہم کی گئی۔ مختلف علاقوں میں فنڈز کی تقسیم درج ذیل رہی:

  • اسلام آباد: 0.29 ارب روپے
  • گلگت بلتستان: 3.85 ارب روپے
  • آزاد جموں و کشمیر: 4.15 ارب روپے
  • پنجاب: 169.07 ارب روپے
  • سندھ: 95.74 ارب روپے
  • خیبرپختونخوا: 67.04 ارب روپے
  • بلوچستان: 17.89 ارب روپے

پاکستان بیت المال کے ذریعے سماجی تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کا خرچ 4.2 ارب روپے رہا۔

تعلیم پر مجموعی خرچ 114 ارب روپے رہا، جس میں موجودہ اخراجات اور گرانٹس دونوں شامل ہیں۔ اس میں سب سے بڑی رقم ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو گرانٹ کی صورت میں دی گئی، جو 68.5 ارب روپے رہی۔ ایچ ای سی کے ملازمین اور آپریشنل اخراجات کے لیے 1.3 ارب روپے مختص کیے گئے۔

ایچ ای سی کی جانب سے خرچ کی گئی رقم میں سے تقریباً 16 فیصد اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی یونیورسٹیوں کو دی گئی، جبکہ باقی صوبوں کو منتقل کی گئی۔

تعلیم کے لیے مجموعی بجٹ 32 ارب روپے رہا، جس میں سے 26 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 6 ارب روپے آپریشنل ضروریات کے لیے رکھے گئے۔

مالی سال 24-2023 میں صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 24.2 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 9.6 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 14.6 ارب روپے آپریشنل اخراجات کے لیے تھے۔

اس کے علاوہ، وفاقی حکومت نے صوبوں کے تعاون سے ”ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن“ کے لیے 21.3 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ پروگرام 1978 سے بچوں کو ویکسین کے ذریعے بیماریوں سے بچاؤ کے لیے جاری ہے۔

یہ پروگرام حکومت کی اس عزم کی نمائندگی کرتا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ اور مؤثر ویکسین فراہم کی جائے اور پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 3 کے حصول میں کردار ادا کیا جائے، جس کا مقصد بچوں میں بیماری اور اموات کی شرح کو کم کرنا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025