کینیڈا کے عام انتخابات میں وزیراعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ اکثریتی حکومت قائم کر پائیں گے یا نہیں۔

مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں اور الحاق کی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے واضح مینڈیٹ کی درخواست کی تھی۔ تاہم، ، کینیڈین نشریاتی ادارے سی ٹی وی اور سی بی سی کی پیشگوئی کے مطابق اب تک لبرلز 343 میں سے 152 نشستوں پر برتری یا فتح حاصل کرچکے ہیں جبکہ اکثریتی حکومت کے لیے 172 نشستیں درکار ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی 131 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج کا انحصار مغربی صوبے برٹش کولمبیا پر ہوسکتا ہے، جہاں پولنگ سب سے آخر میں بند ہوئی۔ انسٹیٹیوٹ آف انگس ریڈ کی صدر شاشی کرل کے مطابق لبرلز کی کامیابی تین عوامل کا نتیجہ ہے: کنزرویٹو مخالف ووٹرز کا ردعمل، ٹرمپ کے ٹیرف کا خوف، اور سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا استعفیٰ۔

مارک کارنی، جو کہ دو جی سیون ممالک کے مرکزی بینکوں کے سابق گورنر رہ چکے ہیں، نے انتخابی مہم میں امریکی ٹیرف کے خلاف سخت مؤقف اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

ادھر صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور یہاں تک کہا کہ اگر کینیڈا امریکہ کا 51واں ریاست بن جائے تو اسے تمام مصنوعات پر زیرو ٹیرف اور ٹیکس کی سہولت دی جائے گی۔

انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا میں امریکی پالیسیوں کے خلاف جذبہ حب الوطنی پیدا ہوا، جس سے مارک کارنی کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ تاہم، اگر مارک کارنی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں دیگر جماعتوں سے اتحاد کرنا ہوگا، جبکہ کینیڈا میں اقلیتی حکومتیں عموماً ڈھائی سال سے زیادہ نہیں چلتیں۔