ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ بندر عباس میں ہونے والے ایک طاقتور دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی ہے جبکہ 1200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع اتوار کو ایک رپورٹ میں دی ہے، دوسری جانب آگ کو مکمل طور پر بجھانے کے لئے فائر فائٹرز جدوجہد کر رہے ہیں۔**
ہفتہ کے روز ہونے والا دھماکہ بندرگاہ کے شہید رجائی سیکشن میں پیش آیا، جو ایران کا سب سے بڑا کنٹینر مرکز ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے سے کئی کلومیٹر کے علاقے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، شپنگ کنٹینرز کی دھاتیں پھٹ گئیں اور اندر موجود سامان شدید متاثر ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران عمان میں امریکہ کے ساتھ تیسرے دور کے جوہری مذاکرات کر رہا تھا۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر موجود کیمیکل مواد کو دھماکے کی ممکنہ وجہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم دھماکے کی اصل وجہ واضح نہیں ہو سکی۔ ایران کی وزارت دفاع نے ان بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ دھماکہ میزائلوں میں استعمال ہونے والے ٹھوس ایندھن کی غلط ہینڈلنگ کی وجہ سے ہوا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے برطانوی سیکیورٹی فرم ایمبری کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارچ میں بندرگاہ پر سوڈیم پرکلوریٹ کی کھیپ موصول ہوئی تھی، جو بیلسٹک میزائلوں کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے، اور جس کی غلط ہینڈلنگ دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔
فنانشل ٹائمز اخبار نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ چین سے ایران کے دو جہازوں کی ایک کھیپ روانہ ہوئی تھی، جس میں اتنی مقدار میں سوڈیم پرکلوریٹ موجود تھا کہ اس سے تقریباً 260 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو ایندھن فراہم کیا جا سکتا تھا۔
یہ کھیپ تہران کو 2024 میں اپنے دیرینہ دشمن اسرائیل پر براہِ راست میزائل حملوں کے بعد اپنے میزائل ذخائر کی بحالی میں مدد دینے کے لیے بھیجی گئی تھی۔
وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹس ”دشمن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ“ ہیں اور یہ بھی واضح کیا کہ دھماکے کا شکار ہونے والے علاقے میں کوئی فوجی سامان موجود نہیں تھا۔
ایران کی کرائسس مینجمنٹ آرگنائزیشن کے ترجمان حسین ظفری نے کہا کہ دھماکے کی وجہ پورٹ پر موجود کنٹینرز میں کیمیکلز تھے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس پورٹ پر پہلے بھی خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم، ایک ایرانی حکومتی ترجمان نے کہا کہ دھماکے کی وجہ کیمیکلز ہو سکتی ہے لیکن اس کی وجہ کا تعین کرنا ابھی ممکن نہیں ہے۔مہلک واقعات
اتوار کے روز جائے وقوعہ کے اوپر کالے دھوئیں کے بادل اٹھے اور دھماکے کی جگہ پر مڑی ہوئی دھات اور ملبے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ آگ پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ شاہد راجی کے متاثرہ علاقوں میں بندرگاہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
ایران کی کرائسس مینجمنٹ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے 752 افراد میں سے 190 اب بھی طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور وزیرداخلہ کو واقعہ کی جگہ پر بھیج دیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی چینلز نے دھماکے کے بعد بندرگاہ کے اوپر ایک بڑی سیاہ اور نارنجی دھوئیں کی لہر دکھائی، جبکہ ایک دفتر کی عمارت کے دروازے اڑ گئے اور کاغذ اور ملبہ بکھر گیا۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے قبل از وقت قیاس آرائیوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حتمی تخمینے تحقیقات کے بعد شیئر کیے جائیں گے۔