پاکستان

وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن میں اہم ملاقاتیں، مستحکم معاشی اشاریوں سے آگاہ کیا

  • محمد اورنگزیب کی پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے جزوی کریڈٹ گارنٹی کی مد میں اے ڈی بی کی معاونت کی درخواست
شائع April 26, 2025 اپ ڈیٹ April 26, 2025 09:55am

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے چوتھے دن کا اختتام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاس کے سلسلے میں اہم مالیاتی اداروں، ریٹنگ ایجنسیوں اور عالمی کارپوریشنز کے ساتھ تعمیری ملاقاتوں کے ساتھ کیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ نے اپنی مصروفیات کا آغاز ویزا کے ریجنل وائس پریزیڈنٹ اینڈریو ٹورے سے ملاقات سے کیا۔انہوں نے پاکستان کی معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور اس کی مختلف مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے میں ویزا کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ویزا کا پاکستان میں اپنے دفتر کا حجم تین گنا بڑھانے کا فیصلہ، اور ون-لنک اور پے پاک کے ساتھ اس کا تعاون، مالی شمولیت، ای کامرس، لین دین کے تحفظ، ادائیگی کے گیٹ ویز کے فروغ اور رقوم کی منتقلی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اینڈریو ٹورے کو یقین دلایا کہ پاکستان میں کسی بھی عملی مسئلے کے حل کے لیے حکومت کی مکمل حمایت حاصل رہے گی۔

اس کے بعد محمد اورنگ زیب نے فلپ مورس انٹرنیشنل کے نائب صدر کرسٹوس ہارپنڈائٹس سے ملاقات کی۔

وزیرِ خزانہ نے کمپنی کی پاکستان سے طویل وابستگی کو سراہتے ہوئے ملک میں بہتر ہوتے کاروباری ماحول اور حکومت کی اُن ٹیکس اصلاحات کو اجاگر کیا جو عوام، عمل اور ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے سگریٹ کی غیر قانونی پیداوار اور فروخت کی روک تھام کے لیے مؤثر نفاذ اور تعمیل کے اقدامات کی اشد ضرورت پر زور دیا۔

جے پی مورگن کے زیر اہتمام ”پاکستان کی اقتصادی اور مانیٹری پالیسی آؤٹ لک“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں وزیرِ خزانہ نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مستحکم معاشی اشاریوں سے آگاہ کیا، جن میں دہرا سرپلس، کم ہوتی مہنگائی، مضبوط زرمبادلہ ذخائر اور مؤثر قرضوں کا انتظام شامل ہیں — وہ عوامل جن کی بنیاد پر فِچ نے حال ہی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔

انہوں نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح مذمت کا اعادہ کیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات میں وزیر اورنگزیب نے انہیں ان کی حالیہ تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان کے ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک کی پائیدار شراکت داری اور کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026-2030 اور بجٹ سپورٹ جیسے اقدامات کے ذریعے ملک کی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا۔

دونوں فریقین نے اے ڈی بی کے منصوبہ جاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا اور منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیرِ خزانہ نے پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے جزوی کریڈٹ گارنٹی کی مد میں اے ڈی بی کی معاونت کی درخواست کی اور اس سال بجٹ معاونت کے عملی جامہ پہننے کی امید ظاہر کی۔

انہوں نے کانڈا کو نومبر 2025 میں ہونے والے سی اے آر ای سی اجلاس میں پاکستانی وفد کی شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر خزانہ نے فچ ریٹنگز اور موڈیز کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، پاکستان کی خودمختار ریٹنگ کو بی تک اپ گریڈ کرنے پر فچ کا شکریہ ادا کیا اور توانائی، ٹیکسیشن، ایس او ایز، پبلک فنانس اور ڈیٹ مینجمنٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کی نشاندہی کی۔

موڈیز کے ساتھ مل کر انہوں نے کم افراط زر، مالی سرپلس اور ریکارڈ ترسیلات زر سمیت مضبوط معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالی جبکہ ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات پر زور دیا۔ تجارتی امور پر انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سنگبو کم سے ملاقات کی اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی بالخصوص ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن میں پاکستان کی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کو عملی جامہ پہنانے میں بینک کی مدد طلب کی۔

”کلائمٹ پروسپیریٹی کو ممکن بنانا“ کے عنوان سے منعقدہ ویلنر ایبل 20 (V20) وزارتی مذاکرات میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی ماحولیاتی مالیاتی حکمت عملی اور ”کلائمٹ پروسپیریٹی پلان“ کی تیاری پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا ذکر کیا اور بتایا کہ ورلڈ بینک کی دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں ماحولیاتی لچک اور کاربن کے اخراج میں کمی کو ترجیح دی گئی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو مؤثر مدد فراہم کی جا سکے، اور ایسے ماحولیاتی منصوبے تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جو بینکوں کے لیے قابلِ سرمایہ کاری ہوں۔

وفاقی وزیر نے پاکستان بینک فنڈ اسٹاف ایسوسی ایشن (پی بی ایف ایس اے) کے ممبران سے بھی بات چیت کی اور انہیں پاکستان کے بہتر ہوتے میکرو اکنامک اشاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے عالمی بینک کے 10 سالہ سی پی ایف پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہے، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا.

آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ء جہاد ازور سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے اقتصادی پروگرام پر عملے کی سطح کے کامیاب معاہدے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فچ کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ (سی پلس ٹو بی-) کا حوالہ دیتے ہوئے پائیدار اصلاحات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

سینیٹر اورنگزیب نے اپنے دن کا اختتام روبرٹو ہورن ویگ کی سربراہی میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے وفد سے ملاقات کے ساتھ کیا اور اس نازک وقت میں پاکستان کے مالیاتی خلا کو پر کرنے میں بینک کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ٹیم کو پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام، نجکاری کے پروگرام اور فچ ریٹنگ اپ گریڈ کے بعد بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹوں میں دوبارہ داخل ہونے کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔