دنیا

پاکستانی فضائی حدود کی بندش: بھارتی ایئرلائنز کو بھاری اخراجات اور طویل پروازوں کا سامنا

  • فضائی حدود کی پابندی 23 مئی تک برقرار رہے گی، پاکستان
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد بھارت کی بڑی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور طویل سفر کے اوقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ منگل کو ہونے والے حملے میں پاکستانی عناصر ملوث تھے جس میں مسلح افراد نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں ایک چراگاہ میں 26 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس واقعے میں ملوث کرنے کا الزام مسترد کیا ہے۔

دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک نئی دہلی اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا جہاں سے مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کرتی ہیں۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس روایتی حریفوں نے اس کے جواب میں ایک دوسرے کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں، جس کے جواب میں بھارت نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے اہم معاہدے کو روک دیا ہے اور پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز کے لیے بند کر دی ہیں۔

بین الاقوامی ایئرلائنز اس پابندی سے متاثر نہیں ہوں گی۔

ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ راڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی حدود کی بندش کا اثر جمعرات کی رات سے نظر آ رہا تھا، جب ایئر انڈیا اور انڈیگو نے نیویارک، آذربائیجان اور دبئی کے لیے پروازوں کا راستہ دوبارہ شروع کیا۔

دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک نئی دہلی اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا جہاں سے مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے کے لیے پروازیں پاکستانی فضائی حدود کو عبور کرتی ہیں۔

سیریم اسسینڈ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیگو ، ایئر انڈیا اور اس کی بجٹ یونٹ ایئر انڈیا ایکسپریس نے اپریل میں نئی دہلی سے یورپ ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے لئے مجموعی طور پر تقریباً 1،200 پروازیں طے کی ہیں۔

بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کے ایک ایگزیکٹو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی دہلی سے مشرق وسطیٰ جانے والی ایئر انڈیا کی پروازوں کو اب مجبوراً تقریباً ایک گھنٹہ اضافی پرواز کرنا پڑے گا، جس کا مطلب ہے کہ ایندھن کی لاگت زیادہ ہوگی اور اضافی ایندھن کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کم سامانا لادنا ہوگا ہوگا۔

فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئرلائن انڈسٹری کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ثابت ہو رہی ہے، جو پہلے ہی بوئنگ اور ایئربس کی جانب سے جیٹ طیاروں کی ترسیل میں تاخیر کے باعث اپنے توسیعی منصوبوں میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ایئر لائنز کے آپریٹنگ اخراجات میں طیاروں کے ایندھن اور تیل کی قیمتوں کا عام طور پر تقریباً 30 فیصد تک حصہ ہوتا ہے، جو کہ سب سے بڑا خرچ ہے۔

انڈیگو نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس کی ”چند“ پروازیں متاثر ہوں گی ، جبکہ ایئر انڈیا نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ “شمالی امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور مشرق وسطیٰ سے آنے والی چند پروازیں متبادل طویل راستہ اختیار کریں گی۔

ایوی ایشن پر توجہ مرکوز کرنے والی ویب سائٹ ’لائیو فرام اے لونگے‘ کے بانی اجے اوتنے نے کہا ہے کہ ’ایئر انڈیا اس وقت دہلی سے باہر سب سے زیادہ طویل اور انتہائی طویل فاصلے کے نیٹ ورک کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ادارہ ہے۔

فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائن انڈسٹری کے لئے تازہ ترین درد سر ہے ، بوئنگ اور ایئربس کی جانب سے جیٹ ڈلیوری میں تاخیر کی وجہ سے توسیع کے منصوبے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ہوائی جہاز کے ایندھن اور تیل کے اخراجات عام طور پر ایک ایئر لائن کے آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً 30 فیصد ہوتے ہیں ، جو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

2019 میں بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران تقریبا 5 ماہ تک پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ایئر انڈیا، انڈیگو اور دیگر ایئرلائنز کو کم از کم 64 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

ایک بھارتی ایئر لائن کے پائلٹ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس اقدام سے شیڈول میں خلل پڑے گا، لیکن ایئرلائنز کو قواعد و ضوابط کے مطابق پرواز کے اوقات کے حساب کو دوبارہ ترتیب دینے اور اس کے مطابق اپنے عملے اور پائلٹ روسٹر کو ایڈجسٹ کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑے گا۔

بھارتی ایئر لائن کے ایک اور ایگزیکٹو نے کہا کہ ایئرلائن جمعرات کی رات دیر گئے تک کام کرنے والے چند ملازمین کے ساتھ اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔

دونوں افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا کو بریفنگ دینے کے مجاز نہیں تھے۔

نئی دہلی سے باکو جانے والی انڈیگو کی پرواز 6 ای 1803 جمعرات کو طویل راستے سے 5 گھنٹے اور 43 منٹ میں منزل پر پہنچی، جس میں جنوب مغرب میں بھارتی ریاست گجرات اور پھر بحیرہ عرب کے اوپر سے سفر کرنا شامل تھا۔

پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی اسی پرواز نے بدھ کو یہ سفر 5 گھنٹے 5 منٹ میں طے کیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی پروازوں پر یہ پابندی 23 مئی تک برقرار رہے گی۔

2019 میں بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران تقریباً پانچ ماہ تک پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ایئر انڈیا، انڈیگو اور دیگر ایئرلائنز کو کم از کم 64 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔