سپریم کورٹ نے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (ایف ای آر اے) کے سیکشن 23 سی(4) اور ایجوڈیکیشن پروسیڈنگز اینڈ اپیل رولز 1998 کے تحت اپیل دائر کرنے کے لیے جرمانے کی رقم جمع کرانے کی شرط کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سنایا۔ پانچ رکنی آئینی بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی۔
سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر فارن ایکسچینج آپریشنز ڈویژن ایس بی پی (جو مدعا علیہ نمبر 8 تھے) نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں سیکشن 23 سی(4) اور رول 8 کے خلاف چیلنج کیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے 1 فروری 2023 کو یہ درخواست منظور کرتے ہوئے مذکورہ دفعات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے وفاق کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ جب اپیل دائر کرنے کے لیے جرمانہ جمع کرانے کی شرط رکھی جائے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے عوامی مفاد کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس شرط کے ذریعے فرد کو اپیل کا حق استعمال کرنے سے محروم کیا جا سکتا ہے، جو کہ آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت شہری کا بنیادی حق ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اپیل کا حق ایک قانونی حق ہے جس کا مقصد انصاف کے اداروں کی غلطیوں کو درست کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت ہر شہری کو انصاف تک رسائی اور منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے اس فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر اپیل کا حق روکا جائے تو یہ قدرتی انصاف کے اصولوں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025