واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بہار اجلاس کے موقع پر ایک تاریخی معاشی مکالمے کی میزبانی کی، جس میں پاکستان کی اقتصادی قیادت، عالمی مالیاتی اداروں اور امریکہ کی کارپوریٹ شخصیات نے شرکت کی۔
اس تقریب میں پاکستان کی قابل ذکر معاشی بحالی اور عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک ابھرتی ہوئی منزل کے طور پر اس کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کلیدی خطاب میں نجی شعبے کو پاکستان کے اقتصادی مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کردار صرف پالیسی فریم ورک فراہم کرنا اور اس میں تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کو ایک ”ذہنی اور سماجی تبدیلی“ قرار دیا، جسے انہوں نے مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثر سے تشبیہ دی۔
وزیر خزانہ نے کاروباری آسانی سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اصلاحاتی عمل سے حکومت کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کو پاکستان کے دو بڑے وجودی چیلنجز قرار دیتے ہوئے، نجی شعبے سے سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں میں شراکت کی اپیل کی۔
پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خیرمقدمی کلمات میں پاکستان کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے 25 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک بڑی مارکیٹ اور وسطی ایشیا، چین، خلیجی ریاستوں اور افرو-ایشیا خطوں کا دروازہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی آئی ٹی اور معدنی شعبوں کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایسی تقریبات کے تسلسل کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا: ”میں پاکستان کا چیف مارکیٹنگ آفیسر ہونے کے ناطے آپ کو پاکستان کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتا ہوں۔“
جیز کے سی ای او عامر ابراہیم نے گزشتہ 15 ماہ میں پاکستان کی معاشی استحکام کو سراہا اور جیز کی 10 کروڑ سے زائد صارفین تک رسائی والی ڈیجیٹل سروسز پلیٹ فارم میں تبدیلی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جامع ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں وسعت کے لیے ریگولیٹری اداروں سے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
فلپ مورس کے نائب صدر کرسٹوس ہارپینٹیڈیس نے پاکستان میں 800 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور مستقبل میں مزید وسعت کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس کی وجہ انہوں نے معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو اور زر مبادلہ کی شرح میں پیشگوئی کی صلاحیت کو قرار دیا۔
ٹی آر جی کے سی ای او حسنین اسلم نے بتایا کہ ان کی آئی ٹی کمپنی دنیا بھر میں 35,000 افراد کو ملازمت دے رہی ہے جن میں 9,000 پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے 3 ارب ڈالر سے آئی ٹی برآمدات کو 25 سے 30 ارب ڈالر تک لے جانے کے وژن کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے ٹیلی کام ڈھانچے اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت کو اہم اثاثہ قرار دیا۔
ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن رائزر نے مالی، توانائی اور زر مبادلہ کی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی بحالی کو سراہا۔