پہلگام حملے کے بعد بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت معطل کر دی، دوطرفہ معاہدے منسوخ کر دیے اور اپنی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کر دیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری و سول قیادت نے شرکت کی، جس میں بھارت کے بیانات اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی حکمتِ عملی طے کی گئی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں این ایس سی نے بھارت کو متنبہ کیا کہ بے بنیاد الزامات اور خونریزی کو سیاسی ڈرامہ بنانے سے باز رہے۔

کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور پوری قومی طاقت سے اس کا جواب دیا جائے گا۔

بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کے باعث این ایس سی نے تمام دوطرفہ معاہدوں (بشمول شملہ معاہدہ) پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے فوری اقدامات کے طور پر:

  • واہگہ بارڈر کو تمام آمدورفت کے لیے بند کر دیا (صرف بھارت سے آنے والے شہریوں کو 30 اپریل تک واپس جانے کی اجازت ہو گی)۔
  • بھارتی شہریوں کو دی گئی سارک ویزا اسکیم کی سہولیات ختم کر دی گئیں (سکھ یاتریوں کو 48 گھنٹوں میں روانہ ہونے کی ہدایت)۔
  • بھارت کے دفاعی، بحری، اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے 30 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
  • بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ کم کرکے 30 افراد تک محدود کر دیا گیا۔
  • پاکستان کی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
  • بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت معطل، حتیٰ کہ تیسرے ملک کے ذریعے بھی۔

این ایس سی نے بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کو ”غیر سنجیدہ، بے بنیاد اور بے منطق“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

کمیٹی نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان امن کا داعی ہے لیکن اپنے وقار اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنی قربانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرکے اپنی دہشتگردی میں شمولیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ بھارت کے ریاستی سطح پر کیے گئے بیرون ملک قاتلانہ حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور پاکستان اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025