وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ ”اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک اپریل 2025“ میں کہا ہے کہ اگرچہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کے شعبے میں سکڑاؤ جاری ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں بتدریج بحالی کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں مہنگائی 1.5 سے 2 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ مئی 2025 تک اس میں اضافہ ہو کر 3 سے 4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
جولائی تا فروری مالی سال 2025 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.9 فیصد کمی ہوئی، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 0.4 فیصد کی کمی تھی۔ فروری 2025 میں ایل ایس ایم میں ماہانہ 5.9 فیصد اور سالانہ 3.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹوموبائل پیداوار، خام مال کی درآمدات اور نرم مانیٹری پالیسی جیسے اشاریوں کی بہتری ایل ایس ایم میں محتاط اچھی امید کا اشارہ دیتی ہے۔
موسمی حالات اور پانی کی دستیابی میں بہتری سے زرعی پیداوار اور کاشتکاری کے حالات میں بہتری کی توقع ہے، جو مجموعی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔
مالیاتی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کو قرض کی فراہمی جولائی تا 11 اپریل 2025 کے دوران 692.5 ارب روپے رہی، جو پچھلے سال 106 ارب روپے تھی۔
ریونیو میں بہتری اور محدود سرکاری اخراجات نے مالی خسارے کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2025 کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی 25.9 فیصد اضافے سے 8,453.1 ارب روپے رہی۔ کل اخراجات میں 23.2 فیصد اضافہ ہوا جو 10,359.0 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 50.3 فیصد اضافہ ہوا۔
مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد رہا، جو پچھلے سال 3.1 فیصد تھا، جبکہ پرائمری بیلنس 3,452.1 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3 فیصد) سرپلس رہا۔
ماہ مارچ 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر کم ہو کر 0.7 فیصد پر آ گئی، جو فروری میں 1.5 فیصد اور مارچ 2024 میں 20.7 فیصد تھی۔
بیرونی شعبے میں بہتری دیکھی گئی، جہاں جولائی تا مارچ 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سال 1.7 ارب ڈالر کے خسارے میں تھا۔ ترسیلات زر میں 33.2 فیصد اضافہ ہوا، جو 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اشیاء کی برآمدات 7.7 فیصد بڑھ کر 24.7 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھ کر 18.7 ارب ڈالر تک پہنچا۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس میں چین، برطانیہ اور ہانگ کانگ سر فہرست رہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس مارچ میں 4,555 پوائنٹس کے اضافے سے 117,807 پر بند ہوا، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 393 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد مارچ میں 58,555 رہی، جو فروری کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔
بی آئی ایس پی کے تحت جولائی تا فروری 2025 کے دوران 347 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو پچھلے سال سے 82.6 فیصد زیادہ ہیں۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کاربن کریڈٹس کے تحت دو نئے منصوبوں کے لیے منظوری جاری کی، جو پاکستان کے کاربن مارکیٹ فریم ورک کے تحت اہم پیشرفت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025