پہلگام حملے کے بعد بھارت نے کل جماعتی اجلاس بلا لیا، نئی دہلی میں اعلیٰ پاکستانی سفارتکار کی طلبی
بھارت نے جمعرات کو نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کیا ہے، یہ خبر ایک دن بعد آئی جب بھارت نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اُس وقت بڑھ گئی جب بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں کمی کی بات کی۔
ایک دن بعد جب مسلح افراد نے کشمیر کے ایک سیاحتی مقام پر 26 افراد کو قتل کیا، جو گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت میں ہونے والا سب سے بدترین حملہ تھا، بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے دعویٰ کیا کہ حملے میں سرحد پار افراد کا ہاتھ ہے اور نئی دہلی اپنے چھ دہائی پرانے دریا کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کو معطل کرے گا، ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان واحد زمینی سرحدی راستہ بند کر دے گا۔
وکرم مسری کے مطابق بھارت اپنے دفاعی اتاشیوں کو پاکستان سے واپس بلا لے گا اور اسلام آباد میں اپنے مشن میں اسٹاف کی تعداد 55 سے کم کر کے 30 کر دے گا۔
بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ سفارتکار کو طلب کیا ہے اور انہیں اطلاع دی ہے کہ پاکستانی مشن کے تمام دفاعی مشیر نا پسندیدہ شخصیت ہیں اور ایک ہفتے میں انہیں بھارت چھوڑنے کا کہا گیا ہے، جو مسری نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک آل پارٹی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ حکومت کے حملے کے جواب کے بارے میں انہیں آگاہ کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے ردعمل پر تبادلہ خیال کے لیے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس کا ذکر کیا۔
انڈس واٹر ٹریٹی، جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پائی تھی، نے انڈس دریا اور اس کی معاون نہروں کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا اور پانی کی تقسیم کو ریگولیٹ کیا تھا۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں کے باوجود بھی قائم رہا تھا۔
وکرم مسری نے کہا کہ بھارت اس معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات اس سے قبل بھی کمزور تھے، کیونکہ پاکستان نے بھارت کے سفیر کو نکال باہر کیا تھا اور نئی دہلی میں اپنے سفیر کو تعینات نہیں کیا تھا جب بھارت نے 2019 میں کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کو منسوخ کیا تھا۔
منگل کے روز کا حملہ اس بات کا غماز ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دعووں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جنہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے علاقے میں امن اور ترقی لانے کو ایک بڑا کارنامہ قرار دیا تھا۔