بھارت یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم نہیں کر سکتا
- نئی دہلی کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیے جانے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، ذرائع
ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا ”انڈس واٹر ٹریٹی“ (سندھ طاس معاہدہ) موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر ختم کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے باخبر ذرائع نے غیر مصدقہ اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیے جانے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارت اس معاہدے کو، جو ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، ختم کر سکتے ہیں۔
انڈس واٹر ٹریٹی دراصل بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ تھا، جو ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے درمیان دستخط ہوا۔
اس معاہدے کے تحت بھارت کو تین مشرقی دریاؤں – بیاس، راوی اور ستلج – کے پانی پر اختیار دیا گیا جن کا سالانہ اوسط بہاؤ 41 ارب مکعب میٹر (33 ملین ایکڑ فٹ) ہے، جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں – سندھ، چناب اور جہلم – پر اختیار دیا گیا جن کا سالانہ اوسط بہاؤ 99 ارب مکعب میٹر ہے۔
یوں بھارت کو بھارت میں واقع دریاؤں کے نظام سے دستیاب کل پانی کا تقریباً 30 فیصد ملا جبکہ پاکستان کو باقی 70 فیصد حاصل ہوتا ہے۔