امریکہ (یو ایس) کے تجارتی حکام نے جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والے زیادہ تر سولر سیلز پر بھاری کسٹم ڈیوٹی کی سطح کو حتمی شکل دی، جو ایک سال پرانے تجارتی مقدمے کو ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں امریکی صنعت کاروں نے چینی کمپنیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مارکیٹ میں غیر منصفانہ طور پر سستے مال کو بھررہے ہیں۔

یہ مقدمہ گزشتہ سال کوریا کی ہانواہ کیو سیلز، ایریزونا کی بنیاد پر قائم فرسٹ سولر انکارپوریٹڈ اور کئی چھوٹی پیداوار کرنے والی کمپنیوں نے دائر کیا تھا جن کا مقصد امریکہ میں سولر مینوفیکچرنگ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا تحفظ کرنا تھا۔

درخواست گزار گروپ، امریکن الائنس فار سولر مینوفیکچرنگ ٹریڈ کمیٹی، نے ملائیشیا، کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور ویتنام میں فیکٹریاں رکھنے والی بڑی چینی سولر پینل ساز کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ پینلز کو اپنی پیداواری لاگت سے کم قیمت پر بھیجتے ہیں اور غیر منصفانہ سبسڈی حاصل کرتے ہیں جو امریکی مصنوعات کو غیر مسابقتی بناتی ہیں۔

پیر کو متعارف کرائے گئے ٹیرف کمپنی اور ملک کے حساب سے مختلف ہیں مگر یہ گزشتہ سال کے آخر میں اعلان کی گئی ابتدائی ڈیوٹیز سے عمومی طور پر زیادہ ہیں۔

ملائیشیا سے جِنکو سولر کی مصنوعات پر کمبائنڈ ڈمپنگ اور کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹیز سب سے کم 41.56 فیصد تھیں۔

حریف ٹرینا سولر کی تھائی لینڈ میں اپنے آپریشنز کی مصنوعات کو 375.19 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔

مقابل کمپنی ٹرینا سولر کی تھائی لینڈ سے آنے والی مصنوعات پر 375.19 فیصد ٹیرف عائد کی گئی ہیں۔

جِنکو اور ٹرینا دونوں فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

کمبوڈیا سے آنے والی مصنوعات پر 3,500 فیصد سے زائد ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گی کیونکہ اس کے پروڈیوسرز نے امریکہ کی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کیا۔

امریکی مینوفیکچرنگ گروپ کے وکیل ٹم برائٹ بل نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت مضبوط نتائج ہیں۔ ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ نتائج چین کی ملکیت والی کمپنیوں کے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو ختم کریں گے جو ان 4 ممالک میں امریکی سولر مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو طویل عرصے سے نقصان پہنچارہی ہیں ۔

ان ممالک پر ٹیرف کا خطرہ جنہوں نے گزشتہ سال امریکہ کو 10 ارب ڈالر سے زائد کی سولر مصنوعات فراہم کیں جو کہ ملکی سپلائی کا زیادہ تر حصہ بنتا ہے نے عالمی سولر تجارت میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔

اس سال ہدف بنائے گئے 4 ممالک سے درآمدات ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہیں جبکہ لاؤس اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے پینلز کی شپمنٹ میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کوشش کے نقاد بشمول سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن (ایس ای آئی اے) ٹریڈ گروپ نے کہا ہے کہ ٹیرف امریکہ کی سولر پروڈیوسرز کو نقصان پہنچائیں گے کیونکہ یہ درآمد شدہ سیلز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیں گے جو امریکی فیکٹریوں کے ذریعے پینلز میں اسمبل کی جاتی ہیں۔ یہ سہولتیں 2022 میں صاف توانائی کی مینوفیکچرنگ کیلئے نیا سبسڈی متعارف کرانے کے بعد بڑھ رہی ہیں۔

ایس ای آئی اے کے حکام فوری طور پر تبصرے کیلئے دستیاب نہیں تھے۔

ٹیرف کو حتمی شکل دینے کے لیے، انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن کو جون میں اس بات پر ووٹ ڈالنا ہوگا کہ آیا ڈمپ کی جانے والی اور سبسڈی والی درآمدات نے صنعت کو مادی نقصان پہنچایا ہے یا نہیں۔