✕

افغانستان کے وزیر خارجہ نے اپریل کے آغاز سے اب تک دسیوں ہزار افغانوں کی جبری ملک بدری پر اپنے پاکستانی ہم منصب سے ’گہری تشویش اور مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان نے اس ماہ کے آخر تک آٹھ لاکھ سے زائد افغانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک سخت مہم شروع کی ہے جن کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں، جن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے تھے یا کئی دہائیوں سے وہاں رہ رہے تھے۔

پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار اسحاق ڈار ہفتے کے روز ایک روزہ دورے پر کابل روانہ ہوئے جہاں انہوں نے وزیر اعظم حسن اخوند اور وزیر خارجہ عامر خان متقی سمیت افغان طالبان حکام سے بات چیت کی۔

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ضیا احمد نے ایکس کو بتایا، “متقی نے صورتحال اور پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی جبری جلاوطنی پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں مقیم افغانوں اور یہاں آنے والوں کے حقوق سلب کرنے سے گریز کریں۔

ضیا احمد نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار نے حکام کو یقین دلایا کہ افغانوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی۔

پاکستان میں مقیم افغانوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی مہم تیز کرتے ہوئے حکام کی جانب سے کئی ہفتوں تک من مانی گرفتاریوں، بھتہ خوری اور ہراساں کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تقریباً 85 ہزار افراد پہلے ہی افغانستان میں روانہ ہو چکے ہیں اور افغان خاندانوں کے قافلے چھاپوں، گرفتاریوں یا اہل خانہ سے علیحدگی کے خوف سے ہر روز سرحدی گزرگاہوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جمعے کے روز پاکستان کے نائب وزیر داخلہ طلال چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی نرمی یا توسیع نہیں کی جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ بغیر کسی دستاویزات کے پہنچتے ہیں تو اس سے یہ غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوتی ہے کہ آیا آپ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی کی حمایت یا دیگر جرائم میں ملوث ہیں یا نہیں۔‘

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان کی طالبان حکومت پر بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات پر دباؤ ڈالنے کی سیاسی حکمت عملی ہے۔

2021 میں کابل میں طالبان حکومت کی واپسی کے بعد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافے کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ سال پچھلے ایک دہائی کے دوران سب سے مہلک سال ثابت ہوا۔ اسلام آباد نے کابل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں پناہ لینے کی اجازت دیتا ہے، جہاں سے وہ حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ملک بدری کا دوسرا مرحلہ

طلال چوہدری نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اپریل کے آغاز سے اب تک تقریباً 85 ہزار افغان سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت غیر قانونی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان میں سے نصف سے زیادہ بچے تھے جو ایک ایسے ملک میں داخل ہوئے جہاں لڑکیوں اور خواتین پر ثانوی اسکول کے بعد تعلیم حاصل کرنے اور کام کے کئی شعبوں میں ان پر پابندی ہے۔

افغان وزارت مہاجرین کے ترجمان نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان حکام نے یکم سے 18 اپریل کے درمیان پاکستان کے ساتھ دو اہم سرحدی مقامات کے ذریعے تقریباً 71 ہزار افغان مہاجرین کی واپسی ریکارڈ کی ہے۔

2023 میں واپسی کے پہلے مرحلے میں، لاکھوں غیر قانونی افغانوں کو چند ہفتوں کے اندر سرحد پار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

مارچ میں اعلان کردہ دوسرے مرحلے میں، حکومت پاکستان نے 800،000 سے زیادہ افغانوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کردیے اور اپریل کے آخر تک دوسرے ممالک میں منتقلی کے منتظر ہزاروں افراد کو متنبہ کیا۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان مسلسل جنگوں سے بچنے کے لیے پاکستان آئے ہیں لیکن پاکستان کے معاشی اور سیکیورٹی خدشات میں اضافے کی وجہ سے افغان برادری کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

افغانوں کو ملک بدر کرنے کے اقدام کی پاکستانیوں نے وسیع پیمانے پر حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’وہ ہمارے ملک کی مکمل بے عزتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی ہے، انہوں نے ہمیں استعمال کیا ہے۔ احمد ولید نے جمعے کے روز راولپنڈی میں اپنی دکان پر کھڑے ہو کر کہا کہ اگر کوئی ملک کا احترام نہیں کرے گا تو وہ وہاں نہیں رہ سکتا۔

قبل ازیں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کا ائرپورٹ پر افغان حکومت کے معززین نے استقبال کیا جن میں وزارت خارجہ کے ڈپٹی وزیر برائے خزانہ و انتظامیہ ڈاکٹر محمد نعیم وردگ، ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد، چیف آف اسٹیٹ پروٹوکول فیصل جلالی شامل تھے۔ افغانستان میں پاکستان کے سربراہِ مشن سفیر عبیدالرحمن نظامانی اور سفارت خانے کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیرخارجہ ایسے وقت میں کابل کا دورہ کررہے ہیں جب پاکستان نے محض دو ہفتوں سے کچھ زیادہ عرصے میں 85 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو ملک بدر کیا ہے جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

اسلام آباد نے ایک سخت مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت اپریل کے اختتام تک 8 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو ملک سے نکالا جائے گا جن کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کیے جا چکے ہیں — ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے یا دہائیوں سے یہاں مقیم ہیں۔

افغان خاندانوں کے قافلے چھاپوں، گرفتاریوں یا اہل خانہ سے الگ ہونے کی ”ذلت“ کے خوف سے ہر روز سرحدی لاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعظم حسن اخوند سمیت افغان طالبان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

پاکستان کے نائب وزیر داخلہ طلال چوہدری نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ڈیڈ لائن میں کسی بھی قسم کی نرمی یا توسیع نہیں کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ بغیر کسی دستاویزات کے پہنچتے ہیں تو اس سے یہ غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوتی ہے کہ آیا آپ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی کی حمایت یا دیگر جرائم میں ملوث ہیں یا نہیں۔‘

طلال چوہدری اس سے قبل افغان شہریوں کو ”دہشتگرد اور مجرم“ قرار دے چکے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی حکمت عملی ہے تاکہ افغانستان میں طالبان حکومت پر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا سکے۔

انہوں نے جمعہ کو بتایا کہ اپریل کے آغاز سے اب تک تقریباً 85,000 افغان باشندے افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں اکثریت کے پاس دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے جمعہ کو بتایا کہ ان میں سے نصف سے زیادہ بچے تھے — جو ایک ایسے ملک میں داخل ہو رہے ہیں جہاں لڑکیوں پر سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے اور خواتین کو بہت سے شعبوں میں کام کرنے سے روکا گیا ہے۔

پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور اس پر نیٹو افواج کے خلاف طالبان کی مزاحمت کی خفیہ حمایت کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ سے زائد افراد کو اسلام آباد اور اس کے قریبی شہر راولپنڈی چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔