امریکہ کی یوکرین مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر دستبردار ہونے کی دھمکی
- ٹرمپ کی جانب سے روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کے فیصلے کے بعد یورپی طاقتیں بھی شامل ہونے کی کوشش کررہی ہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز پیرس میں یورپی اور یوکرینی حکام سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اگر امریکہ نے فیصلہ کیا کہ یوکرین میں امن کا قیام ممکن نہیں تو پھر واشنگٹن جنگ بندی کی کوششوں سے دستبردار ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات شروع کرنے کے حیران کن فیصلے کے بعد سے یورپی طاقتیں مذاکرات کی میز پر نشست حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کا آغاز 2022 میں ماسکو کے یوکرین پر حملے سے ہوا تھا۔
تاہم ٹرمپ کی امن کی کوششوں کو جھٹکا لگا ہے، کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مکمل جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا امریکہ گزشتہ تین برسوں سے یوکرین کی مدد کر رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو لیکن یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔
انہوں نے پیرس کے قریب لی بورجے ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں چند دنوں میں یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا یہ (امن) فوری طور پر ممکن ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو میرا خیال ہے کہ ہم آگے بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دیگر ترجیحات پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
روبیو نے کہا کہ پیر کے روز پیرس میں ہونے والے مذاکرات کے دوران یورپی حکام نے ”اپنے خیالات کے ساتھ بہت مددگار اور تعمیری رویہ“ اپنایا، جس میں انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ شرکت کی۔
انہوں نے لندن میں ”آئندہ ہفتے کے اوائل“ میں ہونے والی اسی طرح کی ملاقات سے قبل کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ مصروف رہیں، مجھے لگتا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس معاملے میں پیش رفت کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔
’**یورپی پابندیاں‘**
یوکرین نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اس کے وزیر اعظم اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے جس کا مقصد معدنیات اور وسائل سے متعلق طویل عرصے سے جاری معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔
ٹرمپ اپنے پیشرو جو بائیڈن کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی امداد کے معاوضے کے طور پر یہ معاہدہ چاہتے ہیں۔
یوکرین کے وسائل اور نایاب معدنیات کی کان کنی سے حاصل ہونے والے منافع پر امریکہ کو رائلٹی کی ادائیگی دینے کے لیے ایک معاہدہ تیار کیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے جمعرات کی رات اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امن اس صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کا عزم کریں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یورپی ممالک روس کے خلاف جنگ کی وجہ سے لگائی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر پابندیاں یورپی ممالک کی طرف سے لگائی گئی ہیں، جنہیں ہم نہیں ہٹا سکتے، چاہے مستقبل میں ایسا کوئی معاہدہ ہو بھی جائے۔
یورپی ممالک نے گزشتہ ماہ روس پر عائد پابندیوں کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ٹرمپ کی جانب سے پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے آغاز کے بعد فرانس اور برطانیہ نے یوکرین کے دفاع اور جنگ بندی کے حوالے سے ایک مربوط یورپی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے کہا کہ پیرس مذاکرات میں اس لیے پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ امریکہ، یوکرین اور یورپی وزرا ایک ہی میز پر جمع ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب یورپی ممالک کی رضامندی اور شمولیت شامل ہو۔
”چھوٹا مسئلہ“
روس کے حالیہ حملوں — جن میں یوکرین کے شہروں میں درجنوں افراد، بشمول بچے، ہلاک ہوئے — نے جنگ ختم کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
وِٹکوف نے اس ہفتے انکشاف کیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران ”مستقل امن“ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ ان کی ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد تیسری ملاقات تھی۔
تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وِٹکوف پر الزام لگایا کہ وہ روسی بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی ایلچی نے کہا کہ روس کے ساتھ امن معاہدہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کی حیثیت پر منحصر ہو گا۔
گزشتہ ماہ پوتن نے ایک مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔
پیوٹن نے یہ بھی تجویز دی کہ زیلنسکی کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”اس بات پر بہت ناراض“ ہیں۔
یورپی کونسل برائے خارجہ امور سے تعلق رکھنے والی سیلیا بیلین نے امریکی سینیٹر روبیو کے حالیہ بیانات پر کہا کہ یہ ”حیران کن نہیں“ ہیں۔
انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹرمپ یوکرین کے مسئلے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، وہ روس کے ساتھ اسٹریٹجک (تزویراتی) شراکت داری بحال کرنا چاہتے ہیں، اور وہ نہیں چاہتے کہ یوکرین جیسا ’چھوٹا مسئلہ‘ ان کی راہ میں رکاوٹ بنے۔