ججز کے تبادلوں کے خلاف درخواستیں، وفاق نے جواب جمع کرادیا
وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کرایا ہے۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کے تبادلے سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی اور اس عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ججوں کے تبادلے عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی ہے، کیونکہ آئین کے مطابق تبادلے کے بعد ججوں کو دوبارہ اپنے سابقہ عہدوں پر واپس بھیجنے کے لیے دوبارہ پورا عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ ججوں کی تقرری میں چیف جسٹس آف پاکستان، متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور منتقل ہونے والے جج کی رضامندی شامل تھی، جس سے وفاقی نوعیت کی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے۔
دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ججوں کی منتقلی اور سینارٹی کی فہرست کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں صدر پاکستان کی ججوں کی منتقلی کے اختیارات کو غیر مشروط قرار دینے کی مخالفت کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججوں کے تبادلے عوامی مفاد میں نہیں اور اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس معاملے کی سماعت آج سپریم کورٹ میں پانچ رکنی آئینی بینچ کے سامنے ہوگی، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کریں گے۔