وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کردہ تخمینے کے مطابق 6 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدوں کی جلد تکمیل سے تقریباً 411 ارب روپے کی مجموعی بچت ہو گی۔

ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر توانائی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں سٹرکچرل ریفارمز کے نفاذ کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے تاکہ ٹیرف میں کمی لانے کے لیے معاہدوں کا جائزہ لیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی کوششوں کے نتیجے میں 6 آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹس کو ختم کردیا گیا ہے، جبکہ 8 بیگاس بیسڈ پاور پلانٹس کے معاہدوں میں ٹیرف میں کمی کے لیے نظرثانی کی گئی ہے۔ اسی طرح 14 تھرمل آئی پی پیز نے اپنے ٹیرف کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 8 بیگاس پاور پروجیکٹس اور 1994 اور 2002 کی پاور پالیسی کے تحت 14 آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ ٹیرف شرائط کے باعث بچت کا تخمینہ بالترتیب تقریباً 238 ارب روپے اور 922 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو ان منصوبوں کی باقی مدت کے دوران ہوگی۔

ایک اور تحریری سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت آئی پی پیز کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس نے توانائی شعبے میں اصلاحات کے لیے قیمتوں میں کمی کے مقصد کے تحت متعدد تجاویز کابینہ کے سامنے پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں تمام صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں بھاری کمی کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ مختلف اقدامات اور پاور سیکٹر میں اصلاحات جیسے آئی پی پی ری ٹو ڈیٹیشنز کے ذریعے صارفین کو اپریل 2025 کی کھپت پر اوسط ٹیرف میں 7.41 روپے فی یونٹ کی نمایاں کمی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز سے قبل جون 2024 ء کے مہینے میں قومی اوسط کنزیومر اینڈ ٹیرف 48.70 روپے فی یونٹ تھا۔ پریل 2025 ء کے مہینے میں موجودہ قومی اوسط کنزیومر اینڈ ٹیرف مزید کمی سے قبل 45.05 روپے فی یونٹ ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ٹیرف میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کے اعلان کے بعد قومی اوسط کنزیومر اینڈ ٹیرف 37 روپے 64 پیسے فی یونٹ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کے اقدامات کی توثیق کی ہے اور یہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کا بھی حصہ ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025