امریکہ کے ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے چھٹیوں پر بھیجے گئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( یو ایس ایڈ ) کے تقریباً 2700 ملازمین کو عارضی طور پر کام پر واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔

واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج کارل نکولس، جنہیں ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران نامزد کیا تھا، نے امریکی حکومت کی سب سے بڑی ورکرز یونین اور فارن سروس ورکرز کی ایک ایسوسی ایشن کی درخواست کو جزوی طور پر منظور کر لیا، جنہوں نے ایجنسی کو بند کرنے کی انتظامیہ کی کوششوں کو روکنے کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

نکولس کا حکمنامہ ، جو 14 فروری تک نافذ العمل رہے گا، ٹرمپ انتظامیہ کو ہفتے سے شروع ہونے والے تقریباً 2،200 یو ایس ایڈ کارکنوں کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں پر بھیجنے کے منصوبے پر عمل درآمد سے روکتا ہے اور تقریباً 500 ملازمین کو بحال کرتا ہے جو پہلے ہی رخصت پر جا چکے تھے۔

یہ قانون انتظامیہ کو امریکہ سے باہر تعینات یو ایس ایڈ کے امدادی کارکنوں کو منتقل کرنے سے بھی روکتا ہے۔

نِکولس بدھ کے روز مقررہ سماعت میں طویل مدتی تعطل کی درخواست پر غور کریں گے۔ انھوں نے اپنے حکمنامے میں لکھا ہے کہ یونینوں نے یہ مضبوط دلیل پیش کی ہے کہ اگر عدالت مداخلت نہیں کرتی تو انھیں ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

نکولس نے یونینوں کی جانب سے یو ایس ایڈ کی عمارتوں کو دوبارہ کھولنے اور ایجنسی کی گرانٹس اور معاہدوں کے لئے فنڈنگ بحال کرنے کی دیگر درخواستوں کو مسترد کردیا۔

انتظامیہ نے جمعرات کو غیر ملکی امداد ایجنسی کے کارکنوں کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں کہا کہ وہ یوایس ایڈ میں 611 اہم کارکنوں کو برقرار رکھے گی، جو کہ دنیا بھر میں 10,000 سے زیادہ کارکنوں پر مشتمل مجموعی ورک فورس کا حصہ ہیں۔

جمعہ کو عدالت کی سماعت کے دوران یونینوں کی وکیل کارلا گلبرائڈ نے کہا کہ ملازمین کی بڑی تعداد میں کمی، دفاتر کی بندش، اور ان افراد کی جبراً منتقلی سب کچھ انتظامیہ کی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

محکمہ انصاف کے ایک عہدیدار بریٹ شومیٹ نے نکولس کو بتایا کہ انتظامیہ کے منصوبوں کے تحت یو ایس ایڈ کے تقریباً 2،200 ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی پر بھیجا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ 500 کو پہلے ہی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

شومیٹ نے کہا کہ صدر نے فیصلہ کیا ہے کہ یو ایس ایڈ میں بدعنوانی اور فراڈ ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں یو ایس ایڈ پر بغیر کسی ثبوت کے بدعنوانی اور دھوکہ دہی سے رقم خرچ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یو ایس ایڈ میں کرپشن اس سطح پر ہے جو اس سے پہلے شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسے بند کر دو!

20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے حکم دیا تھا کہ تمام امریکی غیر ملکی امداد روک دی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ان کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس کے بعد سے افراتفری نے یو ایس ایڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی انسانی امداد تقسیم کرتا ہے۔

ایگزیکٹیو آرڈر جاری ہونے کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے دنیا بھر میں کام روکنے کی ہدایات جاری کیں، جس میں ہنگامی غذائی امداد کے علاوہ تمام غیر ملکی امداد کو موثر طور پر منجمد کردیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں زندگی بچانے والی امداد کا احاطہ کرنے والے یو ایس ایڈ کے پروگرام رک گئے اور ماہرین نے خبردار کیا کہ اس سے لوگوں کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی بزنس مین ایلون مسک اس ادارے کی نگرانی کر رہے ہیں جو وفاقی بیوروکریسی کو محدود کرنے کی صدر کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

مالی سال 2023 میں امریکہ نے جزوی طور پر یو ایس ایڈ کے ذریعے دنیا بھر میں 72 ارب ڈالر کی امداد تقسیم کی جس کا مقصد تنازعات والے علاقوں میں خواتین کی صحت سے لے کر صاف پانی تک رسائی، ایچ آئی وی/ ایڈز کے علاج، توانائی کے تحفظ اور انسداد بدعنوانی کے کاموں تک رسائی ہے۔

اس نے 2024 میں اقوام متحدہ کی طرف سے ٹریک کی جانے والی تمام انسانی امداد کا 42 فیصد فراہم کیا ، پھر بھی یہ اس کے کل بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔