وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا انحصار جموں و کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ اور پرامن حل پر ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نے عالمی برادری، جمہوری ممالک اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں پر یکساں طور پر عمل کریں، خاص طور پر کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ میں دہرا معیار اختیار کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ قوانین اور جبر و تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے بھارتی فورسز کے مظالم، ماورائے عدالت قتل، کشمیری رہنماؤں کی نظر بندی اور عام شہریوں کی بلاجواز گرفتاریوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا، جہاں بھارتی فوج کی بھاری تعداد تعینات ہے۔

وزیر اعظم نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ 5 اگست 2019 کی پالیسیوں کو ترک کرے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن کا داعی رہا ہے، اور اس کا یہ رویہ کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ قومی اقدار اور اسلامی تعلیمات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی پیشہ ور مسلح افواج ہر جارحیت کے خلاف مضبوط دیوار بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو اور ابھی نندن کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی قومی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے 1998 میں وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے ایٹمی تجربات کو پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورۂ لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس وقت مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس وعدے کو پورا کرے کیونکہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔

انہوں نے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری شہداء اور حریت رہنماؤں، بشمول برہان وانی، سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بھارت جتنی بھی فوج تعینات کر لے، آزادی کی تحریک دن بدن مضبوط ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم نے آزاد کشمیر کے عوام کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا اور انہیں ہر ممکن مالی اور ترقیاتی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جس میں دانش اسکولوں کا نیٹ ورک وسیع کرنا بھی شامل ہے۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق نے کشمیری عوام کے حق میں پاکستان کی مسلسل سفارتی، اخلاقی اور مالی مدد کو سراہا اور کہا کہ کشمیر اور پاکستان کے عوام ایک مضبوط رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔

اپنے ایک روزہ دورے کے دوران، وزیر اعظم شہباز شریف نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور کشمیری شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔