اسرائیلی جارحیت کے 15 ماہ میں غزہ کی آبادی 6 فیصد کم ہوگئی
- اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے نتیجے میں غزہ کے 55 ہزار سے زائد شہری شہید اور تقریباً ایک لاکھ افراد علاقہ چھوڑ گئے ہیں، مرکزی ادارہ برائے شماریات فلسطین
فلسطین کے مرکزی ادارہ برائے شماریات (پی سی بی ایس) کے مطابق تقریبا 15 ماہ قبل اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی آبادی میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ تقریبا ایک لاکھ فلسطینیوں نے علاقہ چھوڑ دیا ہے جبکہ 55،000 سے زائد کو شہید تصور کیا جاتا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بیورو نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک تقریبا 45,500 فلسطینی، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں،شہید ہو چکے ہیں، لیکن مزید 11،000 لاپتہ ہیں۔
پی سی بی ایس نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ کی آبادی تقریبا 160،000 افراد کم ہوکر 21 لاکھ رہ گئی ہے ، جس میں 18 سال سے کم عمر کے کل بچوں کا 10 لاکھ سے زیادہ یا 47 فیصد شامل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے خلاف وحشیانہ جارحیت کی ہے جس میں وہاں ہر قسم کی زندگی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسان، عمارتیں اور اہم انفرااسٹرکچر وغیرہ، پورے خاندان کو سول رجسٹر سے مٹا دیا گیا ہے،جو تباہ کن انسانی اور مادی نقصانات ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی سی بی ایس کے اعداد و شمار اسرائیل کو بدنام کرنے کے لیے من گھڑت، بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اور ان میں ہیرا پھیری کی گئی۔
اسرائیل کو غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی کے پیمانے کی وجہ سے نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین قانونی ادارے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے گزشتہ جنوری میں فیصلہ سنایا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے جبکہ پوپ فرانسس نے تجویز دی ہے کہ عالمی برادری کو اس بات کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ آیا اسرائیل کی غزہ مہم نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔
اسرائیل نے نسل کشی کے الزامات کو بار بار مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔پی سی بی ایس کا کہنا ہے کہ عالمی نگرانی کرنے والے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن کے معیار کے مطابق غزہ کی تقریبا 22 فیصد آبادی کو اس وقتتباہ کن حد تک شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
بیورو کا کہنا ہے کہ ان میں سے 22 فیصد بچے غذائی قلت اور خوراک کی کمی کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔