دنیا

اسرائیلی فورسز کا محصور شمالی غزہ کے قصبے کو خالی کرانے کا نیا حکم

غزہ کے شمالی علاقے میں ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی فوج نے فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے راکٹ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے...
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمالی علاقے میں ایک ہفتے سے جاری فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کے روز بیت حنون میں رہنے والے تمام رہائشیوں کو قصبہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کی ہدایت سے نقل مکانی کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں تقریبا 3 ماہ سے جاری اس کی جارحیت کا مقصد حماس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ شہریوں کو انخلا کی ہدایات کا مقصد انہیں نقصان دہ راستے سے دور رکھنا ہے۔

فلسطینی اور اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے اور انخلا کی وجہ سے آبادی کی انسانی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

شمالی قصبوں بیت حنون، جبالیہ اور بیت لہیا کے آس پاس کے زیادہ تر علاقوں کو لوگوں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور انہیں مسمار کر دیا گیا ہے، جس سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ اسرائیل غزہ میں لڑائی ختم ہونے کے بعد اس علاقے کو ایک بند بفر زون کے طور پر رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں قصبے کے ایک گھر میں 7 فلسطینی شہید ہوگئے۔ تاہم فوری طور پر اسرائیل کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

جمعے کے روز اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اسے جنگجو استعمال کر رہے ہیں تاہم حماس اس کی تردید کرتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ایکس ’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ غزہ کے شمالی کنارے پر واقع 3 اسپتالوں میں سے ایک اسپتال پر حملے نے علاقے کے آخری بڑے اسپتال کو خدمات سے محروم کردیا۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کچھ مریضوں کو کمال عدوان سے انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کیا گیا جو فعال نہیں ہے اور طبی عملے کو وہاں ان کے ساتھ شامل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ دیگر مریضوں اور عملے کو دیگر طبی مراکز میں لے جایا گیا۔

اتوار کے روز صحت کے حکام نے بتایا کہ ایک اسرائیلی ٹینک کا گولہ غزہ شہر میں الاہلی عرب بپٹسٹ اسپتال کی بالائی منزل پر ایکسرے ڈویژن کے قریب گرا۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 23 فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں سے ایک حملے میں غزہ شہر کے الوفا اسپتال میں 7 افراد کی شہادت ہوئی اور دیگر زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد حماس کے ’ایریل ڈیفنس یونٹ‘ کے ارکان کو نشانہ بنانا تھا، جو کمپاؤنڈ سے کام کرتے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگجو اس کمپاؤنڈ کو مستقبل قریب میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 45 ہزار 300 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 23 لاکھ افراد میں سے زیادہ تر بے گھر ہو چکے ہیں اور غزہ کا بیشتر حصہ کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔