عالمی ادارۂ صحت کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہا ہے کہ یمن کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کے روز ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے والے اقوام متحدہ کے فضائی عملے کے رکن کو شدید چوٹیں آئیں لیکن اب وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک سے وابستہ متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور حوثی میڈیا کا کہنا ہے کہ کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس ہوائی اڈے پر روانگی کے انتظار میں تھے جب فضائی بمباری کی گئی اور کہا کہ ان کے طیارے کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے بتایا کہ زخمی شخص جو اقوام متحدہ کی ہیومینیٹیرین ایئر سروس کے لیے کام کرتا تھا، اس کا آپریشن کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ تسلی بخش طور پر صحت یاب ہو رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے کہا کہ ٹیڈروس، جو اقوام متحدہ کے زیر حراست عملے کی رہائی اور انسانی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یمن میں تھے، ملک میں اس وقت تک کام جاری رکھیں گے جب تک ان کی پرواز روانہ نہیں ہو جاتی۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے کہا کہ یہ جمعہ کو ہوسکتا ہے ، لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔