یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین میں امریکی سفارت خانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’کمزور‘ بیان قرار دیا ہے جس میں میزائل حملے میں 18 افراد کی ہلاکت کا الزام روس پر عائد نہیں کیا گیا ہے۔

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جزوی جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں جبکہ ماسکو کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری چاہتے ہیں۔

جمعے کی شام ایک روسی بیلسٹک میزائل حملے میں وسطی یوکرین میں زیلنسکی کے آبائی قصبے کریوی رگ کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرین کے صدر نے کہا کہ 62 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’امریکی سفارت خانے کا ردعمل ناخوشگوار طور پر حیران کن ہے‘۔

زیلنسکی نے کہا، “اتنا مضبوط ملک، اتنے مضبوط لوگ – اور اتنا کمزور رد عمل۔

یہاں تک کہ وہ بچوں کو ہلاک کرنے والے میزائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ’روسی‘ لفظ کہنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

امریکی سفیر برجیٹ برنک نے جمعے کی شام ایک پوسٹ میں کہا کہ ’خوف زدہ ہوں کہ آج رات کریوی رگ میں کھیل کے میدان اور ریستوراں کے قریب بیلسٹک میزائل گرا۔ 50 سے زائد افراد زخمی اور 16 ہلاک ہوئے جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

پوسٹ کے تحت متعدد تبصروں میں برنک کو یہ نہ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ روس نے حملہ کیا تھا۔

برنک کو ٹرمپ کے پیش رو جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا اور وہ مئی 2022 سے سفیر ہیں۔

ایکس پر حالیہ پوسٹوں میں انہوں نے یوکرین پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے براہ راست روس کا نام نہیں لیا ہے ، جو انہوں نے فروری کے وسط تک باقاعدگی سے کیا تھا ، جب اوول آفس میں زیلنسکی اور ٹرمپ کے مابین غصے کا تبادلہ ہوا تھا۔

Comments

200 حروف