نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ون ڈے میچ میں پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی، کیویز نے اپنے فاسٹ بالر بین سیئرز کی شاندار بالنگ کی بدولت تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں 43 رنز سے فتح حاصل کی اور سیریز 3 صفر سے اپنے نام کرلی۔
نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر264 رنز بنائے جس کے جواب میں پاکستان ٹیم 40 اوورز میں 221 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ تاخیر سے شروع ہونے کے سبب میچ 42 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔
اس میچ کا اختتام بھی گزشتہ 2 میچز کی طرز پر ہوا جن میں میزبان ٹیم نے نیپئر میں 73 رنز اور ہیملٹن میں 84 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔
قبل نیوزی لینڈ نے اس سے قبل ٹی 20 سیریز میں 1-4 سے فتح حاصل کی تھی۔
پاکستان کو پورے دورے کے دوران نیوزی لینڈ کی تیز گیندبازی کے سامنے مشکلات کا سامنا رہا، خاص طور پر اس کی باؤنسی پچز پر گھومتی ہوئی گیندوں پر پاکستانی بیٹرز غیر ضروری شارٹس کھیل کر آؤٹ ہوتے رہے۔
جارحانہ مزاج کے گیند باز بین سیئرز نے 34 رنز دیکر 5 شکار کیے اور چار وکٹیں شارٹ پچ گیندوں پر حاصل کیں۔
سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے سیئرز مسلسل 2میچز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے نیوزی لینڈ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ 50 اوورز کی سیریز میں کھیلنے کا موقع ملنے کو سراہتے ہیں۔
سیئرز نے دونوں میچوں میں ایک ہی طرح کی سوچ اختیار کر رکھی، انہوں نے کہا کہ یہ دو دن بہت اچھے تھے، میں ایک بہت اچھی ٹیم کے خلاف موقع ملنے پر بہت شکر گزار ہوں اور کچھ وکٹیں حاصل کرنا اچھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میری پلاننگ صرف ایک ہی تھی، گیند کو وکٹ کے درمیان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور صرف اس دباؤ کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہا تھا. اس کارکردگی کا حصہ بننے پر خوش ہوں۔
دونوں سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ساتھی فاسٹ بولر جیکب ڈفی نے میچ میں40 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جس میں 33 ویں اوور میں محمد رضوان کی وکٹ بھی شامل تھی۔ انہوں نے 37 رنز بنائے۔
بابر اعظم نے 58 گیندوں پر سب سے زیادہ 50 رنز بنائے جبکہ اوپنر عبداللہ شفیق نے 56 گیندوں پر 33 رنز بنائے۔
پاکستان ایک بار پھر ناکام
پاکستان کی اننگز کا آغاز ایک بار اچھا نہ ہوسکا کیوں کہ اوپنر امام الحق ایک رن پر زخمی ہو کر میدان سے باہر ہوگئے، انہوں نے ایک تیز سنگل لینے کی کوشش کی اور فیلڈر کی پھینکی ہوئی ان کی ٹھوڑی پر جا لگی۔
محمد رضوان نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم کو مکمل طور پر شکست ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مایوس کن سیریز ہے۔ میں نیوزی لینڈ کو کریڈٹ دوں گا، انہوں نے کھیل کے تمام شعبوں میں بہت اچھا کھیلا۔
انہوں نے کہا کہ کیویز نے کھیل کے تمام شعبوں میں ماہر کھلاڑیوں کی طرح کھیلا، ہمیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں نئی گیند کے سامنے بہتر کھیلنا ہوگا۔
اس سے قبل پاکستان کی جانب سے دعوت پر نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کی رھیس میریو نے اپنی پہلی نصف سنچری اسکور کی، جبکہ میچ کا آغاز دو گھنٹے کی تاخیر سے ہوا کیونکہ میدان گیلا تھا۔
اوپنر میریو، جو اپنے دوسرے بین الاقوامی میچ میں کھیل رہے تھے، نے 61 گیندوں پر 58 رنز کی محتاط اننگز کھیلی، جس میں چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر کے کئی بلے بازوں نے آغاز تو کیا لیکن بڑے اسکور بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے، یہاں تک کہ کپتان مائیکل بریس ویل نے آخری اوورز میں 59 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کو بہتر اسکور تک پہنچایا۔
بریس ویل نے اپنی 40 گیندوں پر مشتمل اننگز میں 6 چھکے مارے اور آخری اوور کی آخری گیند پر عاکف جاوید کی گیند پر کیچ ہو گئے۔
پیس بالرز میں عاکف جاوید نے آٹھ اوورز میں 4 وکٹیں لے کر 62 رنز دیے جبکہ نسیم شاہ شاید پاکستان کے بہترین گیندباز رہے جنہوں نے 2 وکٹیں 54 رنز دے کر حاصل کیں اور اچھی رفتار اور سوئنگ کے ساتھ بالنگ کی۔
Comments