اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور 4 سی کے خلاف زیر التوا انٹرا کورٹ اپیلیں اور درخواستیں سپریم کورٹ کو منتقل کریں۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، نے بدھ کے روز 354 ٹیکس دہندگان کی دفعات 4 بی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ معروف وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 186 اے کی شمولیت کے بعد سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو خود منتقل کر سکے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ اس مقدمے کا فیصلہ کرے تو کیا یہ فیصلہ ہائی کورٹس کے لیے بھی آرٹیکل 189 کے تحت لازم نہیں ہوگا؟ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے بھی مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا مقدمات کو یکجا کر چکی ہے۔

عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹیکس دہندگان کے وکلا سے استفسار کیا کہ اگر وہ اپنے مقدمات ہائی کورٹس سے واپس لے کر سپریم کورٹ میں منتقل کرتے ہیں تو کیا انہیں کوئی اعتراض ہوگا؟ وکلا نے اس پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا مؤقف اپنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ رجسٹرار کو ہدایت دی کہ وہ اس فیصلے کی کاپی اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرارز کو ارسال کرے تاکہ متعلقہ چیف جسٹسز انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور 4 بی سے متعلق مقدمات کو سپریم کورٹ منتقل کرنے کا انتظام کریں۔

سماعت کے دوران مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ سپر ٹیکس اگر ڈبل ٹیکسیشن ہے تو اس کی وصولی کیسے ہو سکتی ہے اور اگر کسی مخصوص گروہ پر یہ دفعات لاگو کی گئی ہیں تو یہ آئین کے تحت امتیازی سلوک ہوگا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ٹیکس کسی خاص مقصد کے لیے ہے تو کیا وفاقی حکومت اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کر سکتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بحالی کے منصوبے صوبے بھی انجام دے سکتے ہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت آج (جمعرات) تک ملتوی کر دی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف