غزہ میں ایک ماہ سے جاری جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے جمعے کے روز تین یرغمالیوں کے ناموں کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے جو وہ فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے منصوبے کے تحت رواں ہفتے کے آخر میں رہا کریں گے۔
اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی جنگجوؤں کو اس ہفتے کے آخر میں تین زندہ یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا یا غزہ میں جنگ کی واپسی کا سامنا کرنا پڑے گا، جب حماس نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کی اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر رہائی روک دے گا۔
19 جنوری کی جنگ بندی، جس نے غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے علاقے پر امریکی قبضے کی تجویز کے بعد سے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کے روز خبر دی تھی کہ حماس تین یرغمالیوں کے نام بتانے کے لیے تیار ہے جنہیں وہ ہفتے کے روز رہا کرے گا، کیونکہ اس نے جنگ بندی کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ’مقررہ ٹائم ٹیبل کے مطابق‘ اگلا تبادلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ ”ہم جنگ بندی پر عمل درآمد کے خواہاں ہیں اور قابضین کو اس پر مکمل عمل کرنے کا پابند بناتے ہیں“۔
اسرائیل نے ہفتے کے روز حماس پر زور دیا تھا کہ وہ ’تین زندہ یرغمالیوں‘ کو رہا کرے۔
حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر کا کہنا تھا کہ ’اگر ان تینوں کو رہا نہیں کیا گیا اور اگر حماس نے ہمارے یرغمالیوں کو واپس نہیں کیا تو ہفتے کی دوپہر تک جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔‘
اس سے قبل حماس نے اسرائیل پر جنگی ملبے کو صاف کرنے کے لیے درکار بھاری مشینری کی فراہمی روکنے کا الزام عائد کیا تھا اور مبینہ طور پر غزہ کے ساتھ مصر کی رفح سرحد ی گزرگاہ پر بلڈوزر قطار میں کھڑے ہیں۔
Comments