پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 جنوری سے 31 جنوری تک 6 روپے 20 پیسے فی لٹر تک اضافے کا امکان ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایکس ڈپو پٹرول کی قیمت میں 3.53 روپے فی لٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بالترتیب 4.98 روپے اور 6.20 روپے فی لٹر اضافے کی توقع ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.29 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔
یکم جنوری 2025 کے بعد سے برینٹ کی قیمتوں میں 1 سے 2 ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پر درآمدی پریمیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ شرح تبادلہ عام طور پر مستحکم رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں اضافے کو ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے اندر ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔
ایکس ڈپو پٹرول کی قیمت فی لٹر 252.66 روپے سے بڑھ کر 256.19 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 258.34 روپے سے بڑھ کر 262 روپے فی لٹر ہونے کا امکان ہے ۔مٹی کے تیل کے سرکاری نرخ 162.95 روپے ہے جو کہ بڑھ کر 167.93 روپے فی لٹر ہو سکتا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت 149.35 روپے سے بڑھ کر 155.55 روپے فی لٹر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 31 دسمبر کو حکومت نے پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 56 پیسے اور 2.96 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا تھا۔
پٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست درمیانی اور نچلے درمیانی طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ایچ ایس ڈی پر چلتا ہے۔
اس کی قیمت کو مہنگائی کا باعث سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری نقل و حمل کی گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، جو سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments