BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Decreased By (-0.54%)
KSE30 Decreased By (-0.62%)
BAFL 56.85 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.14 (-0.52%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.11 (1.1%)
DFML 18.10 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
DGKC 204.93 Decreased By ▼ -1.58 (-0.77%)
FABL 100.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.26%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.90 (-1.65%)
FFL 16.59 Decreased By ▼ -0.10 (-0.6%)
GGL 25.15 Increased By ▲ 0.36 (1.45%)
HBL 299.70 Decreased By ▼ -2.65 (-0.88%)
HUBC 218.37 Decreased By ▼ -1.01 (-0.46%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.20 (1.92%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.12 (-1.62%)
LOTCHEM 29.25 Decreased By ▼ -0.07 (-0.24%)
MLCF 92.38 Decreased By ▼ -1.98 (-2.1%)
OGDC 315.20 Decreased By ▼ -0.64 (-0.2%)
PAEL 42.60 Decreased By ▼ -0.60 (-1.39%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.17 (-1.02%)
PIOC 304.30 Increased By ▲ 7.20 (2.42%)
PPL 218.37 Decreased By ▼ -1.41 (-0.64%)
PRL 51.03 Increased By ▲ 1.84 (3.74%)
SNGP 102.20 Decreased By ▼ -2.70 (-2.57%)
SSGC 27.40 Decreased By ▼ -0.85 (-3.01%)
TELE 8.74 Decreased By ▼ -0.05 (-0.57%)
TPLP 13.53 Increased By ▲ 0.26 (1.96%)
TRG 60.05 Decreased By ▼ -0.09 (-0.15%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
WTL 1.25 Decreased By ▼ -0.01 (-0.79%)
کاروبار اور معیشت

اقتصادی سروے 2023-24 : ٹیلی کام سیکٹر کی درآمدات میں 117 فیصد اضافہ

  • سب سے زیادہ اضافہ موبائل فون کی درآمدات میں دیکھا گیا
شائع اپ ڈیٹ

اقتصادی سروے 2023-24 کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ ٹیلی کام سیکٹر کی درآمدات میں 117.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.623 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں اس شعبے کی درآمدات صرف 745 ملین ڈالر تھیں ۔

سب سے زیادہ اضافہ موبائل فون کی درآمدات میں دیکھا گیا ۔ رواں مالی سال جولائی تا مارچ موبائل فون کی درآمدات 181.3 فیصد اضافے سے 1.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 462.7 ملین ڈالر تھی۔

سروے میں کہا گیا کہ ستمبر 2023 سے روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ درآمدی پابندیوں کے خاتمے سے سازگار ماحول پیدا ہوا جس کی وجہ سے موبائل فونز کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم سروے کے مطابق اس شعبے کی درآمدات مجموعی درآمدات کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ملک میں پالیسی سخت کرنے اور دیگر انتظامی اقدامات کی وجہ سے درآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

رواں مالی سال جولائی تا مارچ مجموعی درآمدات 8.7 فیصد کمی سے 39.9 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 43.7 ارب ڈالر تھیں ۔

اقتصادی سروے میں کہا گیا کہ درآمدات میں سکڑاؤ وسیع پیمانے پر تھا، تمام اہم گروپس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیاد پر مارچ 2024 کے دوران درآمدات میں 29.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.9 ارب ڈالر رہی جو مارچ 2023 میں 3.8 ارب ڈالر تھی۔

پاکستان کی کل درآمدات کا چوتھائی حصہ چین سے آتا ہے

برآمدات کی طرح پاکستان کی درآمدات بھی چند ممالک پر بہت زیادہ مرکوز ہیں۔ پاکستان چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے درآمدات کرتا ہے جو کل درآمدات کا تقریبا 50 فیصد ہے۔

رواں مالی سال جولائی تا مارچ چین سے درآمدات 21 فیصد سے بڑھ کر 26 فیصد ہو گئیں جبکہ امریکا سے درآمدات کا حصہ 4 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد رہ گیا۔

چین ان تین ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ پاکستان کا آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے ۔ دیگر دو ممالک سری لنکا اور ملائیشیا ہیں۔

Comments

Comments are closed.