وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفد چین کے پانچ روزہ دورے کے بعد واپس آیا اور ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں تمام شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی مکمل رینج کو اجاگر کیا گیا، حالانکہ کسی بھی معاہدے پر عمل کی پابندی نہیں ہے۔

حکومت کے حامی قانونی طور پر چینی حکومت کی اس پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی مکمل حمایت کے وعدوں یا اس طرح کی کسی بھی مدد پر لاگو شرح سود کی تشہیر نہیں کرے گی، یا اس سب کیلئے ایک خودمختار گارنٹی کی ضرورت ہوگی۔

تاہم حکومت کے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ چین قرض کی قسم اور اس سے وابستہ شرائط کی تفصیلات بتانے سے انکار کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اعلان کیے گئے اہم منصوبوں کے ساتھ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی۔

وفاقی دارالحکومت میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ چین کے پانچ روزہ دورے کی وجہ سے بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا دن ملتوی کر دیا گیا تھا، شاید اس کی وجہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم کی جانب سے ملک کا دورہ مکمل ہونے کے بعد ’پیشگی شرائط‘ پر اصرار تھا، جسے نئے آئی ایم ایف پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ شاید، چینی سرمایہ کاری کے بہاؤ کی مقدار بجٹ میں ترقی کے تخمینوں کی مدد کرے گی.

اس دعوے کو آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر 24 مئی کو اپ لوڈ کی گئی پریس ریلیز سے تقویت ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “آئی ایم ایف اور حکام آنے والے دنوں میں عملی طور پر پالیسی تبادلہ خیال جاری رکھیں گے جس کا مقصد بات چیت کو حتمی شکل دینا ہے، جس میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے دو طرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں سے حکام کی اصلاحات کی کوششوں کو تقویت دینے کے لئے درکار مالی مدد بھی شامل ہے۔

چین کی امداد کو دو طرفہ شراکت داروں کی معاونت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے دیگر دو اہم ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں، اور اس میں تین گنا مدد کا تصور کیا گیا ہے: (1) اگلے پروگرام کے اختتام تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے 6 سے 7 ارب ڈالرز کا ”رول اوور“، جس کا تخمینہ تین سے چار سال کے درمیان لگایا جا رہا ہے - اگر اس پر اتفاق ہو گیا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ چینی حکومت پہلے کی طرح اپنے فیصلے سے براہ راست آئی ایم ایف کو آگاہ کرے گی۔(ii) سی پیک منصوبوں کے تحت پاکستان نے 500 ارب روپے اور زیر التواء ادائیگیوں (ڈالر میں) کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید سرمایہ کاری کی آمد کا تخمینہ لگایا ہے۔ اور (3) سی پیک منصوبوں میں مصروف اپنے شہریوں کی حفاظت جس کی وجہ سے وفد میں چیف آف آرمی اسٹاف کی موجودگی ضروری تھی۔

بجٹ اب کل 12 تاریخ کو پیش کیا جائے گا اور کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی وفد کی جانب سے مانگی گئی چینی قرض کی معیاد میں توسیع کر دی گئی ہے اور اسے کثیر الجہتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف تک پہنچا دیا گیا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو، تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت بجٹ کو زیادہ دیر تک ملتوی نہیں کر سکتی کیونکہ اگلے مالی سال کے آغاز سے پہلے یکم جولائی سے قبل پارلیمنٹ سے بجٹ کی منظوری ضروری ہے۔

بجٹ اجلاس ابتدائی طور پر 6 جون کو طلب کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے کی تیاری کیلئے تمام اہم اجلاس تاخیر کا شکار ہیں۔

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس جس میں آئین کے آرٹیکل 156 کے مطابق ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دینا، مالی، تجارتی، سماجی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے منصوبے تیار کرنا شامل ہے۔ چند دن پہلے تشکیل پانے کے بعد کل ہی منعقد ہوا ہے۔ بجٹ اسٹریٹجی پیپر بھی پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا ہے حالانکہ شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مخصوص نشستوں پر فیصلے کا انتظار ہے۔

اس صورتحال میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کئی دیگر وزرا اور نجی شعبے کے کاروباری افراد کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ چین گئے۔

اس کے برعکس دعوؤں کے باوجود پاکستان کی معیشت انتہائی نازک ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری تو دور کی بات لگتی ہے، مقامی سرمایہ کاری کا ماحول مختلف وجوہات کی بنا پر خراب ہے۔ جن میں سے کئی کا تعلق ماضی کی ناقص پالیسیوں سے ہے۔

اسٹینڈ بائی معاہدے کی آخری قسط ملنے کے باوجود پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نہیں آئی ہے کیونکہ نگرانوں سمیت سابقہ حکومتوں نے موجودہ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مقامی مارکیٹ سے بھاری قرضے لینے کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوا اور ملک عالمی ایکویٹی مارکیٹ سے باہر رہا۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کثیر الجہتی / دوطرفہ سرمایہ کاروں کے ساتھ فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت کو نہ صرف موجودہ اخراجات کو پچھلے سال کی سطح تک منجمد کرنا چاہئے (بجٹ 13.3 ٹریلین روپے بلکہ اصل میں اس میں مزید 2 ٹریلین روپے کی کمی کرکے 11.3 ٹریلین روپے کردینا چاہئے) – ایک ایسی کٹوتی جس سے بیرون ملک سے قرض لینے کی ضرورت کم ہوجائے گی جبکہ حکومت کو میکرو اکنامک بنیادی اصولوں کو بہتر بنانے کے لئے کافی وقت ملے گا ۔جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ساتھ ساتھ افراط زر پر مبنی ٹیکس لگانے کی ضرورت میں کمی آئے گی، یعنی بالواسطہ ٹیکس موڈ جس کا اثر امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ ہے اور اس ملک میں غربت کی سطح 40 فیصد ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

200 حروف