اولمپک چیمپئن ایمان خلیف پیرس اولمپکس کے بعد 15 دسمبر کو پہلی بار باکسنگ رنگ میں اتریں گی
- اولمپک چیمپئن ایمان خلیف طویل عرصے بعد 15 دسمبر کو پیرس میں رنگ میں اتریں گی، ان کی واپسی ایسے وقت ہو رہی ہے جب ان کی مقابلوں میں شرکت کی اہلیت پر تنازع بھی سامنے آیا تھا
اولمپک چیمپئن ایمان خلیف پیرس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد پہلی بار باکسنگ رنگ میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ 27 سالہ باکسر 15 دسمبر کو اسی شہر میں مقابلے کے لیے اتریں گی جہاں وہ اولمپک چیمپئن بنی تھیں۔
فرانس کے ذرائع ابلاغ کے مطابق الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایمان خلیف کا مقابلہ 21 سالہ ڈچ باکسر کلاریڈا سریبیا سے ہوگا۔ دونوں کے درمیان چھ راؤنڈز پر مشتمل پیشہ ورانہ فائٹ ہوگی۔ خلیف اپریل میں انجری کے باعث جولیا ایگل کے خلاف پیشہ ورانہ مقابلے سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوئی تھیں۔
سریبیا کے خلاف اس فائٹ کا اعلان پیرس میں جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ ڈچ باکسر اب تک اپنے چاروں پیشہ ورانہ مقابلے جیت چکی ہیں۔
ایمان خلیف نے 2024 کے اولمپکس میں خواتین کے ویلٹر ویٹ مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سے کسی باضابطہ مقابلے میں حصہ نہیں لیا۔ ان کی مقابلوں میں شرکت کی اہلیت پر صنفی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے جنسی کروموسوم ٹیسٹ کی بنیاد پر انہیں 2023 کی عالمی چیمپئن شپ سے نااہل قرار دے دیا تھا۔
آئندہ فائٹ کی تشہیر کے لیے جاری کردہ ویڈیو میں ایمان خلیف نے کہا کہ رنگ سے طویل غیر حاضری کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
اسٹیر ایونٹ کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں ان کا کہنا تھا، ’’دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔ میں انتظار کرتی رہی، شکوک کا شکار بھی ہوئی، لیکن میرے اندر کی آگ کبھی نہیں بجھی۔ بند دروازوں کے پیچھے بھی میری جدوجہد جاری رہی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کیونکہ یہ مقابلہ کبھی صرف میرا نہیں تھا۔ یہ ان سب کے لیے تھا جنہوں نے اپنی اصل شناخت کے ساتھ جینے کی جرات کی اور ان سب کے لیے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘
ورلڈ باکسنگ، جسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے عارضی منظوری ملنے کے بعد 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں باکسنگ کے مقابلوں کی نگرانی کرنی ہے، نے گزشتہ سال اپنے زیر اہتمام مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام باکسرز کے لیے لازمی جنسی ٹیسٹنگ کا اعلان کیا تھا۔
ایمان خلیف نے فروری میں کہا تھا کہ وہ جینیاتی ٹیسٹ کرانے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یہ ٹیسٹ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نگرانی میں کیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ 2028 کے اولمپکس میں اپنے اعزاز کا دفاع کریں گی تو انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں اس کا جواب نہیں دے سکتی، کیونکہ میں نے صنفی ٹیسٹ کے معاملے پر ورلڈ باکسنگ کے خلاف شکایات درج کرا رکھی ہیں۔‘‘
تاہم، ایمان خلیف کے کوچ کامل عبدالسلام نے، جو ناصر لعلاؤئی کے ساتھ ان کی تربیت کرتے ہیں، کہا ہے کہ وہ اولمپکس میں اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کریں گی۔
کامل عبدالسلام کے مطابق، ’’انہیں دوبارہ ان کھیلوں میں حصہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ پہلے ہی اولمپک چیمپئن ہیں۔‘‘


Comments