پاکستان اور ترکیہ تقریباً دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کریں گے
- وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے اس پیش رفت کو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے دیا
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعے کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جہاز کی آمد کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے کے لیے آپریشنل، لاجسٹک، بحری اور سیکیورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے اس پیش رفت کو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص معاہدہ مکہ پر دستخط کے بعد یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
علی پرویز ملک نے اسے دونوں ممالک کے لیے ایک خاص موقع قرار دیا اور کہا کہ وہ جہاز کی کراچی آمد پر خود اس کا استقبال کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے منصوبے میں حکومت کی مکمل معاونت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترک وفد کو پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ تاریخی کامیابی حاصل کرے گا۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور جہاز کی آمد اور آپریشنز کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے لیے سرکاری محکموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
ترک کمپنی ٹی پی او سی کے پراجیکٹ منیجر نے پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہتے ہوئے منصوبے کی کامیابی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام، ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم کنسیشنز اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزارت خارجہ، وزارت بحری امور، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل ہائیڈروگرافک آفس پاکستان اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پورٹس اینڈ شپنگ کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
یہ پیش رفت پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے اہم معاہدوں پر دستخط کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ کمپنی نے پاکستان آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کے تحت الاٹ کیے گئے آٹھ سمندری بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کیے تھے، جسے تقریباً دو دہائیوں بعد ملک میں سمندر کے اندر تیل و گیس کی تلاش کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمع کرائے گئے نوٹس کے مطابق ان معاہدوں پر 20 مئی 2026 کو وفاقی وزیر پیٹرولیم کی موجودگی میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس سے قبل کمپنی نے 13 نومبر 2025 کو ان آف شور بلاکس کی ابتدائی الاٹمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
کمپنی کے مطابق الاٹ کیے گئے بلاکس میں دو ایسے سمندری بلاکس شامل ہیں جن میں آپریٹر کی ذمہ داری پی پی ایل کے پاس ہوگی۔ ان کے نام گھارو کریک اور کوچی کریک ہیں۔
اس کے علاوہ پی پی ایل چھ ایسے دیگر آف شور بلاکس میں شراکت دار کے طور پر بھی کام کرے گی جن میں بن قاسم ساؤتھ، کیٹی بندر، بھیڑ، ضرار، آف شور ڈیپ ڈی اور سپاٹ بندر شامل ہیں۔


Comments