ایچ بی ایل کو فلوٹنگ ریٹ سیکیورٹیز کی نئی قیمتوں کے تعین کے بعد سرمایہ کاری پر منافع بڑھنے کی توقع
- ایچ بی ایل نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) میں اپنی سرمایہ کاری تقریباً 450 ارب روپے بڑھا دی
حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)، جو پاکستان کے بڑے کمرشل بینکوں میں شامل ہے، توقع رکھتا ہے کہ فلوٹنگ ریٹ سیکیورٹیز کی شرح منافع پر نظرثانی کے بعد اس کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو سے حاصل ہونے والے منافع میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ بینک انتظامیہ نے یہ بات بتاتے ہوئے ڈپازٹس میں مضبوط اضافے، ڈیجیٹل بینکاری کے پھیلاؤ اور اثاثوں کے مستحکم معیار کو بھی اجاگر کیا۔
تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج پر تبادلہ خیال کے لیے منعقدہ تجزیہ کاروں کی بریفنگ میں، جس میں کے ٹریڈ نے بھی شرکت کی، ایچ بی ایل نے بتایا کہ ستمبر 2026 تک اس کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں فلوٹنگ ریٹ سیکیورٹیز کا حصہ تقریباً 60 فیصد تھا، جبکہ میڈیم ٹرم بانڈز (ایم ٹی بیز) اور فکسڈ ریٹ سیکیورٹیز کے حصص بالترتیب 15 اور 25 فیصد تھے۔
فکسڈ ریٹ پورٹ فولیو کی مدت 3.2 سال جبکہ مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو کی مدت تقریباً 1.12 سال تھی۔
بینک نے 2026 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے درمیان پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) میں اپنی سرمایہ کاری میں بھی تقریباً 450 ارب روپے کا اضافہ کیا۔
ایچ بی ایل نے کیلنڈر سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 19.6 ارب روپے منافع حاصل کیا، جو فی حصص 13.33 روپے بنتا ہے۔ یہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 6.5 فیصد زیادہ اور مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے۔ بینک نے فی حصص 6 روپے کے عبوری نقد منافع کا اعلان بھی کیا۔
ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے 9 ماہ کے دوران بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ ڈپازٹس میں 15 فیصد یعنی 273 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی ڈپازٹس میں ان کا حصہ دسمبر 2025 کے اختتام پر 38 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہوگیا۔
ایچ بی ایل کے مطابق اس کا اسلامی بینکاری کا کاروبار بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے اور ستمبر 2026 میں اسلامی ڈپازٹس کا حجم 1.3 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ بینک کے مجموعی برانچ نیٹ ورک میں تقریباً 36 فیصد اسلامی بینکاری پر مشتمل ہے، جس میں 658 اسلامی برانچز اور تقریباً 500 اسلامی بینکاری ونڈوز شامل ہیں۔
بینک ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد برانچز چلا رہا ہے اور گزشتہ 9 ماہ کے دوران اس کے نیٹ ورک میں تقریباً 84 نئی برانچز کا اضافہ ہوا۔ اس کا بنیادی بینکاری نظام ٹیمنوس پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ اب تک 800 برانچز نئے نظام پر منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ مزید پیش رفت 2027 میں متوقع ہے۔
قرضوں کے شعبے میں ملکی سطح پر کارپوریٹ اور کمرشل سیکٹرز میں قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہوا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی قرضوں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
ایچ بی ایل کے کنزیومر فنانسنگ پورٹ فولیو کا حجم 200 ارب روپے سے تجاوز کر گیا، جو مارکیٹ میں سب سے بڑا ہے، جبکہ کریڈٹ کارڈز کے واجبات 66 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ بینک کے مجموعی قرضوں میں اسلامی فنانسنگ کا حصہ تقریباً 20 فیصد رہا۔
بینک کے مطابق اثاثوں کا معیار مستحکم رہا۔ نان پرفارمنگ قرضوں کا تناسب (انفیکشن ریشو) 4.5 فیصد جبکہ مخصوص پروویژننگ کوریج 85 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ عمومی پروویژنز بھی موجود ہیں۔
ایچ بی ایل نے زرمبادلہ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر 76 فیصد اضافے کی اطلاع دی، جبکہ فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ڈیجیٹل بینکاری کی سرگرمیوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بینک کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈیجیٹل اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز کا حصہ مجموعی لین دین میں 94.6 فیصد رہا، جبکہ صرف 5.4 فیصد ٹرانزیکشنز روایتی برانچز کے ذریعے کی گئیں۔
ریگولیٹری تقاضوں کے حوالے سے بینک انتظامیہ نے بتایا کہ ایچ بی ایل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مرحلہ وار ہدایت پر پہلے ہی عمل کر رہا ہے، جس کے تحت بینکنگ بک میں موجود دیگر جامع آمدنی (او سی آئی) کے پورٹ فولیو کو ٹریڈنگ بک میں دوبارہ درجہ بند کرنا ہے۔
انتظامیہ کو توقع ہے کہ اس عمل کی تکمیل کے نتیجے میں بینک کو اضافی سرمایہ رکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور نہ ہی اس کے کامن ایکویٹی ٹائر ون (سی ای ٹی ون) کے تناسب پر کوئی اثر پڑے گا۔
علاوہ ازیں ایچ بی ایل انتظامیہ نے نیویارک میں جاری ایک سول لائیبلٹی مقدمے میں اپنے حق میں فیصلے کی توقع ظاہر کی۔ انتظامیہ نے وضاحت کی کہ یہ قانونی کارروائی پہلے زیرِ بحث آنے والے جرمانے سے متعلق معاملات سے الگ ہے۔
بینک کے مطابق مقدمے کی کارروائی مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے اور انتظامیہ کو نسبتاً جلد فیصلے کی توقع ہے، تاہم امریکی قانونی نظام میں کارروائی مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔


Comments