BR100 Increased By (0.01%)
BR30 Decreased By (-1.15%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.05%)
BAFL 58.30 Increased By ▲ 0.53 (0.92%)
BIPL 23.26 Increased By ▲ 0.11 (0.48%)
BOP 28.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.88%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -1.36 (-9.97%)
DFML 15.07 Decreased By ▼ -0.34 (-2.21%)
DGKC 182.36 Increased By ▲ 4.21 (2.36%)
FABL 92.50 Increased By ▲ 1.10 (1.2%)
FCCL 53.81 Increased By ▲ 1.53 (2.93%)
FFL 12.80 Decreased By ▼ -0.10 (-0.78%)
GGL 18.11 Decreased By ▼ -0.90 (-4.73%)
HBL 285.17 Decreased By ▼ -6.38 (-2.19%)
HUBC 195.28 Increased By ▲ 2.10 (1.09%)
HUMNL 8.48 Decreased By ▼ -0.09 (-1.05%)
KEL 5.64 Decreased By ▼ -0.15 (-2.59%)
LOTCHEM 23.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.42%)
MLCF 91.96 Increased By ▲ 1.45 (1.6%)
OGDC 301.68 Decreased By ▼ -5.10 (-1.66%)
PAEL 31.81 Decreased By ▼ -0.52 (-1.61%)
PIBTL 12.78 Decreased By ▼ -0.15 (-1.16%)
PIOC 235.63 Increased By ▲ 2.49 (1.07%)
PPL 212.06 Decreased By ▼ -1.87 (-0.87%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 90.01 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.86 Increased By ▲ 0.33 (1.46%)
TELE 6.44 Decreased By ▼ -0.28 (-4.17%)
TPLP 12.16 Decreased By ▼ -0.44 (-3.49%)
TRG 51.87 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
UNITY 7.61 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

قومی حلال سرٹیفکیشن مارک مضبوط بنانے پر زور

  • عالمی حلال منڈی تک رسائی کیلئے لیبارٹری ٹیسٹنگ اور قومی نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ماہرین
شائع اپ ڈیٹ

برآمد کنندگان، سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات نے پاکستان کو 3 ہزار ارب ڈالر سے زائد مالیت کی عالمی حلال صنعت میں زیادہ سے زیادہ حصہ دلانے اور برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قومی حلال سرٹیفکیشن نشان کو مضبوط بنانے، خوراک، ادویات اور کاسمیٹکس سمیت مختلف شعبوں میں سرٹیفکیشن کا دائرہ وسیع کرنے اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

پہلا پاکستان حلال فورم 2026 گزشتہ ہفتے ذہین حلال معیشت کے موضوع کے تحت اختتام پذیر ہوا، جس میں پاکستان کی حلال معیشت کو فروغ دینے اور عالمی منڈی میں ملک کا حصہ بڑھانے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا گیا۔

فورم کا انعقاد حلال ڈیولپمنٹ کونسل (ایچ ڈی سی)نے کیا جبکہ پاکستان حلال اتھارٹی (پی ایچ اے)اور انٹرنیشنل حلال سرٹیفکیشن (آئی ایچ سی) نے مشترکہ طور پر اس کا اہتمام کیا۔ دینار اسٹینڈرڈ نے علمی شراکت دار کے طور پر شرکت کی جبکہ ورلڈ حلال کونسل (ڈبلیو ایچ سی)نے فورم کی توثیق کی۔ 3 ہزار ارب ڈالر سے زائد مالیت کی عالمی حلال صنعت کے حوالے سے یہ پاکستان میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا مخصوص فورم تھا۔

حلال صنعت میں انسانی وسائل کی ترقی اور عالمی سطح پر اس شعبے کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری کے موضوع پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے سعودی حلال سینٹر کے ایگزیکٹو نائب صدر برائے ریگولیٹری امور و تحقیق انجینئر محمد الظفیری نے کہا کہ گلوبل حلال اکیڈمی اشتراکی پروگراموں کے ذریعے حلال شعبے میں تعلیم و تربیت کا عالمی مرکز بننے کی خواہاں ہے۔ اکیڈمی کا مقصد تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنا، عالمی معیارات سے ہم آہنگ تعلیمی مواد فراہم کرنا، علم کے تبادلے کو فروغ دینا اور تمام متعلقہ شعبوں میں آگاہی بڑھانا ہے۔

انہوں نے گلوبل حلال اکیڈمی کے بنیادی ستونوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فروغ، معاشی مواقع کی تخلیق، خصوصی مہارتوں کی حامل افرادی قوت کی تیاری، جدت طرازی اور ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔

اسٹیٹ آف دی گلوبل اسلامک اکانومی رپورٹ کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دینار اسٹینڈرڈ امریکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رفیع الدین شیکوہ نے بتایا کہ 2024 میں او آئی سی ممالک کی حلال مصنوعات کی درآمدات 421.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ 2025 میں اسلامی معیشت میں سرمایہ کاری کا حجم 13.1 ارب ڈالر رہا۔

رفیع الدین شیکوہ کے مطابق حلال مصنوعات کے شعبے میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں 21ویں نمبر پر ہے جبکہ حلال مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔

انہوں نے پاکستانی کاروباری شخصیات پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈیوں میں موجود غیر استعمال شدہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور 3 ہزار ارب ڈالر سے زائد مالیت کی حلال صنعت میں پاکستان کا حصہ بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان حلال اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مرید رحیموں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی حلال نظام پر عالمی اعتماد قائم کرکے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حلال معیارات کو متعلقہ برآمدی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، باہمی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کرنے اور برآمد کنندگان کو خریداروں کی ضروریات پوری کرنے میں معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی مصنوعات کی مؤثر تشہیر اور تجارتی سفارت کاری کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی کے مواقع بڑھائے جاسکتے ہیں۔

مرید رحیموں نے بتایا کہ پی ایچ اے کے منصوبے میں ایک قومی حلال نشان کو مضبوط بنانا، خوراک، اجزا، ادویات اور کاسمیٹکس کے شعبوں میں سرٹیفکیشن کا دائرہ وسیع کرنا، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور آڈیٹرز کی تربیت کا معیار بہتر بنانا اور خریداروں کے لیے ڈیجیٹل تصدیق کی سہولت متعارف کرانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ برآمد کنندگان کو رہنمائی، مصنوعات کی تشہیر اور ترجیحی ممالک کی منڈیوں تک رسائی میں معاونت فراہم کی جائے گی۔

حلال مصنوعات کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے متفرق ضوابط، لیبارٹریوں کی محدود استعداد، تربیت یافتہ آڈیٹرز کی کمی، سرٹیفکیشن کے غیر یکساں طریقہ کار، مصنوعات کی تیاری سے ترسیل تک نگرانی اور سراغ رسانی کے کمزور نظام، قومی حلال نشان سے متعلق آگاہی کا فقدان اور بعض درآمدی منڈیوں میں اس نشان کی محدود قبولیت اہم مسائل ہیں۔ ان رکاوٹوں کے باعث برآمد کنندگان کو اضافی اخراجات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان حلال اتھارٹی کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے مرید رحیموں نے کہا کہ پی ایچ اے ایک وفاقی قانونی ادارہ ہے، جسے حلال مصنوعات اور ان کی تیاری کے طریقہ کار سے متعلق تجارت کو منظم اور فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی حلال سرٹیفکیشن اداروں کی رجسٹریشن، قومی حلال نشان کے استعمال کے لیے لائسنس کے اجرا، سرٹیفکیشن اسکیم کے قواعد وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو حلال سے متعلق گمراہ کن دعوؤں سے تحفظ فراہم کرنے اور ایک مستند قومی نظام کے قیام کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔

حلال ڈیولپمنٹ کونسل کے چیئرمین اسد سجاد نے کہا کہ یہ فورم محض ایک تقریب نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی حلال مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کی توجہ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک، جدت طرازی اور برآمدات میں سہولت فراہم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ پاکستانی کاروباری اداروں کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر عالمی منڈیوں کے خریداروں سے منسلک کیا جاسکے۔

انٹرنیشنل حلال سرٹیفکیشن (آئی ایچ سی)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مفتی ذیشان عبدالعزیز نے کہا کہ حلال اب معیار، صفائی اور تحفظ کے عالمی پیمانے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے کیو آر کوڈ کے ذریعے مصنوعات کی ترسیل کے مراحل کا سراغ لگانے، بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے تصدیق اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے آڈٹ کے نظام کو اہم قرار دیا۔

Comments

200 حروف