تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار، زبردست منافع کے باوجود چیلنجز برقرار
- مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 113.7 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا
پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار (ای اینڈ پی) کے شعبے نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کا آغاز نسبتاً مضبوط بنیادوں پر کیا، جسے عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں، ہائیڈروکاربن کی بہتر پیداوار اور گیس کی زیادہ بہتر قیمتوں سے معاونت ملی۔ تاہم، اس شعبے کی بحالی یکساں نہیں، جبکہ تلاش کے بڑھتے اخراجات، پرانے ہوتے ہوئے گیس و تیل کے ذخائر اور گردشی قرضوں سے متعلق واجبات بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔
ای اینڈ پی کی چار بڑی لسٹڈ کمپنیوں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، ماری انرجیز (ماری) اور پاکستان آئل فیلڈز (پی او ایل) نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 113.7 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع (پی اے ٹی) حاصل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔ ان کمپنیوں کی خالص فروخت 32 فیصد اضافے سے 279 ارب روپے جبکہ مجموعی منافع 35 فیصد بڑھ کر 169 ارب روپے ہوگیا۔ شعبے کا مجموعی منافع کا مارجن 60.5 فیصد جبکہ خالص منافع کا مارجن 40.7 فیصد رہا۔
اس بہتری کی بنیادی وجہ قیمتوں میں سازگار اضافہ تھا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی اوسط قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد بڑھ کر تقریباً 90 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ کنوؤں سے حاصل ہونے والی گیس کی نظرثانی شدہ قیمتوں نے بھی اضافی معاونت فراہم کی۔ پیداوار میں اضافے نے بھی اس بہتری میں کردار ادا کیا، کیونکہ سہ ماہی کے دوران ملک میں تیل کی پیداوار 10 فیصد اور گیس کی پیداوار 6 فیصد بڑھ گئی۔

آپریشنل اعتبار سے بھی سہ ماہی کے دوران حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ او جی ڈی سی کی تیل کی پیداوار میں 13 فیصد اور گیس کی پیداوار میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ نئے فیلڈز سے اضافی پیداوار تھی۔ پی پی ایل کو بھی زیادہ پیداوار سے فائدہ پہنچا، جبکہ ماری کی گیس کی پیداوار 7 فیصد بڑھ گئی۔ پی او ایل کی گیس کی پیداوار میں 27 فیصد اضافہ ہوا، تاہم تیل کی پیداوار 5 فیصد کم ہوگئی۔
کمپنیوں کی انفرادی کارکردگی میں او جی ڈی سی سب سے بڑا حصہ دار رہا، جس نے شعبے کی مجموعی آمدنی میں نصف سے زیادہ حصہ ڈالا۔ کمپنی کا منافع 53 فیصد اضافے سے 58.5 ارب روپے ہوگیا۔ پی پی ایل کی آمدنی 25 فیصد بڑھ کر 25.2 ارب روپے، جبکہ ماری کا منافع 39 فیصد اضافے سے 21.8 ارب روپے رہا۔ پی او ایل نے 51 فیصد اضافے کے ساتھ 8.2 ارب روپے منافع حاصل کیا، جس کی وجہ بہتر قیمتیں، گیس کی زیادہ پیداوار اور تلاش کے اخراجات میں نمایاں کمی تھی۔
تاہم تیل و گیس کی تلاش کے اخراجات میں صورتحال ملی جلی رہی۔ چاروں کمپنیوں کے مجموعی تلاش کے اخراجات 45 فیصد اضافے سے 10.2 ارب روپے ہوگئے، جو خالص فروخت کا 3.7 فیصد بنتے ہیں، جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح تقریباً 3.3 فیصد تھی۔ پی پی ایل کے اخراجات میں ایک خشک کنویں (جہاں سے تیل یا گیس دریافت نہ ہو) کے بعد نمایاں اضافہ ہوا، جس سے فروخت کے مقابلے میں تلاش کے اخراجات کا تناسب 4.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ او جی ڈی سی کے اخراجات بھی تلاش کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بڑھے، جبکہ ماری اور پی او ایل کے تلاش کے اخراجات میں کمی ہوئی۔ اس اتار چڑھاؤ سے تلاش کے عمل میں موجود خطرات اور موجودہ ذخائر پرانے ہونے کے ساتھ نئے ذخائر دریافت کرنے کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
مالی سال 2026 کے ساتھ موازنہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چاروں کمپنیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 460 ارب روپے سالانہ منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ تھا۔ تاہم، اس اضافے کا بڑا حصہ 77.8 ارب روپے کے یکمشت سپر ٹیکس کی واپسی سے حاصل ہوا۔ ان ایڈجسٹمنٹس کو نکال دیا جائے تو مالی سال 2026 میں منافع میں اضافہ صرف 8.8 فیصد رہ جاتا ہے۔ اس لیے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بہتری کا تعلق زیادہ تر حقیقی پیداوار، قیمتوں اور آپریشنل کارکردگی سے دکھائی دیتا ہے، اگرچہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی زیادہ آمدنی نے بھی منافع کو سہارا دیا۔
اس کے باوجود مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں سہ ماہی بنیاد پر منافع میں تقریباً 47 فیصد کمی ہوئی، جس کی بڑی وجہ مالی سال 2026 میں ملنے والی ٹیکس کی یکمشت واپسی کا نہ ہونا اور اس کے مقابلے میں تیل کی قیمتوں میں کمی تھی۔ بہتر ریکوری کے باوجود شعبے کے واجبات اب بھی خاصے زیادہ ہیں، بالخصوص او جی ڈی سی اور پی پی ایل کے واجبات۔
آئندہ کے حوالے سے تیل کی بلند قیمتیں اور پیداوار میں مزید اضافہ منافع کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم، اصل امتحان پیداوار میں اضافے کا تسلسل برقرار رکھنے، تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل نئی دریافتوں کو تیز کرنے اور نقد رقوم کی وصولی بہتر بنانے کا ہوگا۔ ذخائر اور تلاش کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر منافع میں موجودہ بحالی کو برقرار رکھنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔


Comments