عدم توازن کا شکار غذائی نظام
- سبزیوں، پھلوں، جڑوں اور گٹھیوں والی فصلوں اور دالوں کی فراہمی بدستور ضرورت سے کم ہے
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے تازہ ترین جائزے نے اس بڑھتے ہوئے فرق کو واضح کردیا ہے کہ پاکستانیوں کو خوراک میں کن غذائی اجزا کی ضرورت ہے اور ملک کا غذائی نظام انہیں کیا فراہم کر رہا ہے۔ ادارے کی حال ہی میں جاری کردہ پالیسی بریف، جس کا عنوان ’’پاکستان میں صحت مند غذا کے لیے خوراک کی فراہمی‘‘ ہے، میں بتایا گیا ہے کہ ملک کا غذائی نظام عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے عوامی پالیسی کے ایک بنیادی امتحان میں ناکام ہو رہا ہے، یعنی ملک میں مقرر کردہ غذائی رہنما اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔
سبزیوں، پھلوں، جڑوں اور گٹھیوں والی فصلوں اور دالوں کی فراہمی بدستور ضرورت سے کم ہے، جبکہ اناج اور چینی کی مقدار غذائی ضروریات سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے 60 فیصد سے زائد شہری صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ زرعی ترجیحات میں عدم توازن اور خوراک کی تقسیم اور اس تک رسائی میں حائل رکاوٹیں غذائیت کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی قلت، موٹاپے میں اضافے اور خوراک سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خوراک کی فراہمی میں کمی کی شدت اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔ 2010 سے 2023 کے دوران سبزیوں کی تخمینی طلب اور رسد کے درمیان فرق 1 کروڑ 9 لاکھ سے 1 کروڑ 78 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 1 کروڑ 30 لاکھ سے 2 کروڑ 16 لاکھ ٹن کے درمیان تک پہنچ گیا، جبکہ پھلوں کی کمی 19 لاکھ سے 1 کروڑ 3 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 39 لاکھ سے 1 کروڑ 43 لاکھ ٹن ہوگئی۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ پہلے ہی ناکافی غذائی رسد پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور موسم کی بڑھتی ہوئی شدت زرعی پیداوار کے لیے خطرہ بن رہی ہے، فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور رسد کی زنجیروں میں خلل پیدا کر رہی ہے۔ ان تمام عوامل کے یکجا ہونے سے پاکستان کی غذائی ضروریات اور سستی و غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کی صلاحیت کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال کے نتائج پاکستان پر صحت عامہ کے بوجھ میں بھی نمایاں ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے پست قامتی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جس سے ان کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور سیکھنے کی استعداد متاثر ہوتی ہے۔ اس کے اثرات تعلیم کے حصول اور مستقبل میں پیداواری صلاحیت پر بھی طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔ تولیدی عمر کی تقریباً 42 فیصد خواتین خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہیں، جس سے زچگی اور ماں کی صحت سے متعلق خطرات میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح پہلے ہی بلند ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ذیابیطس کی شرح دنیا کے بلند ترین تناسب میں شامل ہے۔ اندازے کے مطابق 2024 میں 20 سے 79 سال کی عمر کے 31.4 فیصد بالغ افراد ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائیوں سے بھرپور غذائیں موٹاپے کا سبب بنتی ہیں اور ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے خطرات بڑھاتی ہیں۔ غذائی قلت اور موٹاپے کا بیک وقت موجود ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متوازن غذا کو عوام کی دسترس میں لانے میں غذائی نظام ناکام ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے صحت کی سہولیات پر اخراجات، پیداواری صلاحیت، ملک کی انسانی ترقی اور معاشی استعداد پر مزید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
صحت کے یہ مسائل غذائی نظام میں موجود ساختی خامیوں کا نتیجہ ہیں۔ زرعی پالیسی میں روایتی طور پر گندم اور چاول جیسی بڑی فصلوں کو ترجیح دی جاتی رہی ہے، جبکہ پھلوں، سبزیوں اور دالوں کی مناسب اور سستی فراہمی یقینی بنانے پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔ ذخیرہ کرنے کی ناقص سہولیات، کولڈ چین کے کمزور بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل میں رکاوٹیں اور فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات بھی جلد خراب ہونے والی زرعی پیداوار کی دستیابی محدود کرتے اور قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک اکثر قوت خرید سے باہر رہتی ہے، جس کے باعث سستے اور زیادہ کیلوری والی غذاؤں کا انتخاب ان کے لیے زیادہ قابل عمل بن جاتا ہے۔ لوگوں کو بہتر خوراک کھانے کی تلقین کرنے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا، اگر جس خوراک کے انتخاب کی انہیں ترغیب دی جا رہی ہے وہ ان کی پہنچ سے باہر ہو۔
لہٰذا ایف اے او کی یہ سفارش کہ زرعی سرمایہ کاری اور تجارتی ترجیحات کو غذائی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، ان عدم توازن کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم نقطۂ آغاز ہے کہ پاکستان کا غذائی نظام صرف مناسب مقدار میں کیلوری فراہم کرنے کے بجائے صحت مند آبادی کے لیے ضروری مختلف غذائی اجزا بھی مہیا کرے۔ ادارے نے خوراک کی بہتر تقسیم، ذخیرہ کرنے اور منڈیوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور خوراک کے ضیاع میں کمی کے اقدامات کی بھی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ غذائیت سے متعلق آگاہی، پیکنگ کے اگلے حصے پر غذائی معلومات کے لیبل اور میٹھے مشروبات نیز چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائیوں سے بھرپور غذاؤں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مربوط اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ زرعی سبسڈیز، تحقیق اور منڈیوں سے متعلق پالیسیوں کو ملک کی غذائی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ کسانوں کو مختلف اقسام کی فصلیں کاشت کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہوگی اور انہیں مالی وسائل، قابل اعتماد منڈیوں اور ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات تک رسائی دینا ہوگی تاکہ فصلوں کے نقصانات کم سے کم کیے جاسکیں۔
اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے سرکاری سطح پر غذائیت سے بھرپور خوراک کی خریداری سے ایسی غذاؤں کی طلب میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ہدفی مالی معاونت کے ذریعے ان غذاؤں کو قابل خرید بنایا جاسکتا ہے۔
بالآخر زرعی شعبے کی کامیابی کا معیار ازسرنو متعین کرنا ہوگا۔ اس کامیابی کو صرف فصلوں کی پیداوار اور مجموعی پیداوار میں اضافے سے نہیں بلکہ اس صلاحیت سے بھی جانچنا ہوگا کہ ملک کا غذائی نظام ہر شہری کو سستی، متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments