بیٹری اسٹوریج درآمدات 6 ماہ میں 4.5 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئیں
- یہ ملک کی تاریخ میں اب تک مجموعی طور پر درآمد کیے گئے 9.5 گیگاواٹ آلات کی تقریباً نصف مقدار کے برابر ہے
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ ملک نے صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیٹری اسٹوریج کے 4.5 گیگاواٹ (جی ڈبلیو) سے زائد آلات درآمد کیے، جو ملک کی تاریخ میں اب تک مجموعی طور پر درآمد کیے گئے 9.5 گیگاواٹ آلات کی تقریباً نصف مقدار کے برابر ہے۔
توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو اپنانے کے رجحان میں یہ تیزی شہریوں اور صنعتی اداروں کی جانب سے بجلی کے حد سے زیادہ مہنگے ٹیرف سے نجات حاصل کرنے کی کوششوں کے باعث سامنے آئی ہے۔ یہی صورت حال حال ہی میں پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کے زیر اہتمام منعقدہ پارلیمانی مکالمے کا پس منظر بھی بنی۔
اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کنوینر اور رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے توانائی کی طویل مدتی منصوبہ بندی کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج اگلی دو دہائیوں کے لیے ہمارے بجلی کے شعبے کو بہتر بنانے کی کلید ہے۔ ہم مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں جو دن کے اوقات میں طلب کے عروج کے دوران بھی پوری طرح استعمال نہیں ہوتی، جبکہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں اور تیزی سے وسعت پاتے 40 سے زائد ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں عارضی اور وقتی حل سے گریز کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے ایک شفاف اور جامع قانون سازی کا فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔
شریک کنوینر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے مارکیٹ کے غیر منظم حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ہم پاکستان کو ایسے غیر معیاری اور خطرناک بیٹریوں کے آلات کی ڈمپنگ گراؤنڈ نہیں بننے دے سکتے جن کے لیے حفاظتی معیارات، جانچ کے بنیادی ڈھانچے یا ری سائیکلنگ کے ضوابط موجود نہ ہوں۔ ہماری پالیسی کا محور فعال انداز میں بجلی کے قومی نظام کے استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے درمیان توازن قائم کرنا ہونا چاہیے تاکہ صاف توانائی کے فوائد کم آمدنی والے گھرانوں تک بھی پہنچ سکیں۔
مکالمے کے ناظم اسامہ میلہ نے بجلی کے قومی نظام سے صارفین کی علیحدگی کے بڑھتے ہوئے چیلنج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کے باعث ہر سال صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد بتدریج قومی گرڈ سے علیحدہ ہو جائے گی، جس سے اگر بروقت انتظام نہ کیا گیا تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف پر بہت زیادہ مالی دباؤ پڑے گا۔
صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے رخ میں تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی چوہدری مبین عارف جٹ اور رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرمایہ بنیادی صنعتی توسیع کے بجائے دیگر شعبوں میں منتقل ہو رہا ہے۔
رکن قومی اسمبلی چوہدری مبین عارف جٹ نے کہا کہ فیکٹری مالکان اور صنعت کار اس وقت سستی بجلی حاصل کرنے اور غیر ملکی حریفوں کے مقابلے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اپنی اصل پیداواری مشینری پر خرچ ہونے والے سرمائے سے دو گنا تک رقم اپنے استعمال کے لیے شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج سسٹم نصب کرنے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاور ڈویژن مارکیٹ کی بنیاد پر خریداری کے مؤثر اشارے فراہم کرنے میں ناکام رہا تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بالآخر ان صارفین کو سزا دینے کا سبب بنیں گی جو قومی گرڈ سے منسلک نہیں ہیں، جبکہ کم آمدنی والے صارفین بھی متاثر ہوں گے جو بیٹری اسٹوریج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
سرکاری سطح پر ٹیکس سے متعلق مفروضوں کو چیلنج کرتے ہوئے پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انجینئر چوہدری عزیر نے درآمدی آلات پر عائد بھاری اخراجات کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹوریج کے آلات پر اس وقت مجموعی طور پر 35 سے 40 فیصد تک ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ 5 کلوواٹ آور (کے ڈبلیو ایچ) کی ایک بنیادی بیٹری کی قیمت 250,000 روپے سے زیادہ ہے۔ ایسے میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ہر ایک کی پہنچ میں قرار دینا حقیقت سے بالکل بعید ہے۔
وزارتِ توانائی کی جانب سے جواب دیتے ہوئے پاور ڈویژن کے مشیر سید فیضان شاہ نے انتظامی سطح پر کیے جانے والے بعض اقدامات کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگلے 15 دن کے اندر پاور ڈویژن لیسکو، میپکو، آئیسکو اور پیسکو میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے 10 میگاواٹ آور کے چار آزمائشی منصوبوں کے لیے مسابقتی ٹینڈرز جاری کرے گا۔ اس کے علاوہ نیپرا باضابطہ طور پر بیٹری اسٹوریج کو ایک ضابطہ جاتی اثاثہ قرار دے رہا ہے، جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نئے گرڈ اسٹیشن تعمیر کرنے کے مقابلے میں نصف لاگت پر اوورلوڈ ٹرانسفارمرز پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
بجلی کے نظام کو درپیش عملی مسائل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لیسکو کے چیئرمین عامر ضیا نے مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم کے ٹرانسفارمرز کو دن کے اوقات میں شمسی توانائی کی پیداوار کے باعث 70 فیصد تک بجلی کے الٹے بہاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد شام کے اوقات میں طلب میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں بیٹری اسٹوریج ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ذخیرہ کیا جا سکے اور شام کے اوقات میں طلب کے عروج کے دوران اسے دوبارہ نظام میں شامل کیا جا سکے۔


Comments