تحفظ کے قوانین اور غیر محفوظ صحافی
- سندھ میں سروے کیے گئے 65 فیصد صحافیوں کو معلوم نہیں تھا کہ صوبائی تحفظ کمیشن تک رسائی کیسے حاصل کی جائے
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ ’’تحریری تحفظ سے عملی تحفظ تک‘‘ کے نتائج پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے قانونی وعدوں اور میڈیا سے وابستہ پیشہ ور افراد کو درپیش زمینی حقائق کے درمیان وسیع خلیج کو اجاگر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں شکایات کے کمزور نظام، ناکافی وسائل، محدود آگاہی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کی مؤثر تحفظ کی راہ میں بڑی مشکلات کے طور پر درست نشاندہی کی گئی ہے۔
تاہم، مسئلہ انتظامی خامیوں سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اقتدار میں موجود افراد میں اختلافِ رائے، تنقید اور آزاد صحافت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہے۔
صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو سزا سے بچنے سے روکنے کے لیے 2022 میں خصوصی قوانین کا نفاذ ایک اہم قدم تھا۔ تاہم، صرف قانون سازی تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی، جب اداروں میں ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت یا عزم موجود نہ ہو۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کہ سندھ میں سروے کیے گئے 65 فیصد صحافیوں کو معلوم نہیں تھا کہ صوبائی تحفظ کمیشن تک رسائی کیسے حاصل کی جائے، آگاہی اور جواب دہی کے نظام کی سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 65 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ انہیں 2021 سے اب تک اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں یا مداخلت کا سامنا کرنا پڑا، جو ان خطرات کو واضح کرتا ہے جن کا انہیں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے سامنا ہے۔
وفاقی اور صوبائی کمیشنوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہیں مناسب مالی وسائل، تربیت یافتہ عملے، خفیہ اور آسان شکایتی ذرائع، خطرات کا جائزہ لینے کے واضح طریقہ کار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بروقت کارروائی یقینی بنانے کے مؤثر ذرائع کی ضرورت ہے۔ تاہم، شکایات کے لیے بہترین اور مؤثر نظام کی افادیت بھی محدود رہے گی، اگر صحافیوں کو یہ خوف ہو کہ دھمکیوں کی اطلاع دینے سے انہیں مزید ہراسانی، نگرانی یا انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تحفظ اس وقت تک بامعنی نہیں ہوسکتا جب تک دھمکیاں دینے کے ذمہ دار افراد کو، ان کے عہدے یا اثر و رسوخ سے قطع نظر، جواب دہ نہ ٹھہرایا جائے۔
تاہم، اس سے بھی بنیادی مسئلہ پاکستان میں اختلافِ رائے کی گنجائش کا سکڑنا ہے۔ سرکاری مؤقف پر سوال اٹھانے، بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے، طاقتور اداروں کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے یا سیاسی طور پر حساس معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو غدار، غیر محبِ وطن یا ریاست مخالف قرار دیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس طرح کے رویے اس اصول کو کمزور کرتے ہیں کہ آزاد صحافت جمہوری جواب دہی کے لیے ناگزیر ہے۔ اقتدار میں موجود افراد پر تنقید ریاست پر حملہ نہیں، بلکہ صحافت کا ایک جائز اور ضروری فریضہ ہے۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے خطرہ سمجھا جانے لگے تو محض قانونی تحفظات ان افراد کی حفاظت نہیں کرسکتے جو اس حق کو استعمال کرتے ہیں۔
اختیار کے استعمال میں عدم برداشت کا اظہار صرف براہِ راست دھمکیوں، جبر اور تشدد تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس میں قانونی ہراسانی، میڈیا مالکان پر دباؤ، اشاعت اور تقسیم پر پابندیاں اور تنقیدی رپورٹنگ کو دبانا بھی شامل ہے۔ یہ طرزِ عمل خوف و ہراس کا ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں خود سنسرشپ اختیار کرنا بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور یوں شہریوں کو معلومات تک رسائی کے ان کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کی مؤثریت کا اندازہ اس بنیاد پر نہیں لگایا جانا چاہیے کہ کتنے کمیشن قائم کیے گئے یا کتنے اجلاس منعقد ہوئے، بلکہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ آیا صحافی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر کام کرسکتے ہیں یا نہیں۔ حکام کو زبانی یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ تنقید کرنے والوں کو سزا نہیں دی جائے گی اور صحافیوں کو دھمکیاں دینے والے افراد کو اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پاکستان کو صرف آسان رسائی والے شکایتی نظام اور مناسب وسائل سے لیس کمیشنوں کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے سیاسی اور ادارہ جاتی کلچر کی بھی ضرورت ہے جو اختلافِ رائے کو اختیار کے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک جمہوری حق تسلیم کرے۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، صحافیوں کے تحفظ کا وعدہ بڑی حد تک کاغذوں تک محدود رہے گا، جبکہ آزاد صحافت پر خوف کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments