BR100 Decreased By (-0.37%)
BR30 Decreased By (-0.72%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.31%)
BAFL 55.55 Decreased By ▼ -0.33 (-0.59%)
BIPL 24.50 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 28.19 Decreased By ▼ -0.34 (-1.19%)
CNERGY 12.47 Decreased By ▼ -0.41 (-3.18%)
DFML 15.75 Decreased By ▼ -0.03 (-0.19%)
DGKC 181.20 Increased By ▲ 2.17 (1.21%)
FABL 91.00 Decreased By ▼ -0.17 (-0.19%)
FCCL 51.60 Increased By ▲ 0.30 (0.58%)
FFL 13.98 Decreased By ▼ -0.08 (-0.57%)
GGL 19.52 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
HBL 288.16 Decreased By ▼ -1.61 (-0.56%)
HUBC 191.99 Decreased By ▼ -0.85 (-0.44%)
HUMNL 8.71 Decreased By ▼ -0.44 (-4.81%)
KEL 5.73 Decreased By ▼ -0.28 (-4.66%)
LOTCHEM 24.50 Decreased By ▼ -0.45 (-1.8%)
MLCF 89.92 Increased By ▲ 0.69 (0.77%)
OGDC 300.55 Increased By ▲ 1.08 (0.36%)
PAEL 33.20 Decreased By ▼ -0.42 (-1.25%)
PIBTL 13.25 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 232.48 Increased By ▲ 2.35 (1.02%)
PPL 214.60 Decreased By ▼ -4.25 (-1.94%)
PRL 102.93 Decreased By ▼ -5.88 (-5.4%)
SNGP 92.80 Increased By ▲ 3.08 (3.43%)
SSGC 23.30 Increased By ▲ 0.53 (2.33%)
TELE 7.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.57%)
TPLP 11.89 Increased By ▲ 0.36 (3.12%)
TRG 57.19 Decreased By ▼ -0.43 (-0.75%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.14 (-1.73%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
مارکٹس

ماہرین کا میٹالرجیکل کوئلے کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر زور

  • پاکستان میں میٹالرجیکل کوئلے پر خاطر خواہ سنجیدہ کام نہیں کیا گیا، سلطان کھوسو
شائع اپ ڈیٹ

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فولاد سازی میں استعمال ہونے والے اہم خام مال میٹالرجیکل کوئلے کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔

ان کا خیال ہے کہ مقامی طور پر موزوں میٹالرجیکل کوئلے کے وسائل پیدا کرنا درآمدی خام مال پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ بچانے اور ملک میں فولاد کی مقامی صنعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کان کنی اور میٹالرجیکل انجینئرنگ کے ماہر ڈاکٹر سلطان احمد کھوسو نے کہا کہ پاکستان میں میٹالرجیکل کوئلے پر خاطر خواہ سنجیدہ کام نہیں کیا گیا، کیونکہ تاریخی طور پر کوئلے کی پالیسی میں اسے ایک اہم صنعتی خام مال کے بجائے توانائی کے حصول کے لیے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

سائنسی اعتبار سے کوئلے کے بڑے ذخائر کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ میٹالرجیکل مقاصد کے لیے بھی موزوں ہیں۔ کوکنگ کوئلے میں مناسب درجہ بندی، راکھ، گندھک، فاسفورس، متغیر مادے، بہاؤ کی خصوصیات، پھولنے کی صلاحیت اور کوک بنانے کی موزوں خصوصیات ہونا ضروری ہیں۔

ڈاکٹر سلطان کھوسو کے مطابق، پاکستان کو اس مقصد کے لیے منظم تلاش، کوئلے کے معیار کی تفصیلی سائنسی جانچ، صفائی اور معیار بہتر بنانے کے عمل، مختلف اقسام کے کوئلے کو ملانے سے متعلق مطالعات اور تجرباتی پیمانے پر کوک بنانے کے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں معاشی مواقع نمایاں ہیں، کیونکہ پاکستان کی فولاد سازی کی صنعت تاریخی طور پر درآمد شدہ کوکنگ کوئلے اور میٹالرجیکل کوک پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس سے زرمبادلہ پر دباؤ پڑتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور رسد میں تعطل کے خطرات بھی بڑھتے ہیں۔

ڈاکٹر سلطان کھوسو نے کہا کہ مالی اعتبار سے بڑے پیمانے پر سرمایہ لگانے سے پہلے ہمیں ایسے ثابت شدہ ذخائر کی نشاندہی کرنی چاہیے جنہیں تجارتی بنیادوں پر نکالا جا سکے، اور کان سے کوک کی تیاری تک کے پورے عمل کی مسابقتی معاشی افادیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ مقصد ایسے مقامی کوئلے کی شناخت ہونا چاہیے جو درآمد شدہ کوئلے کی جگہ استعمال ہو سکے یا اس کے ساتھ ملا کر کام میں لایا جا سکے۔ اس طرح زرمبادلہ کی بچت اور اضافی قدر پیدا کرنے والی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ برآمدات پر غور صرف اسی وقت کیا جانا چاہیے جب سائنسی بنیادوں پر تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل معیار اور رسد کو یقینی بنا لیا جائے۔

میٹالرجیکل کوئلے کے استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر لوہا اور فولاد تیار کرنے کے خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوکنگ کوئلے کو کوک اوونز میں تبدیل کرکے میٹالرجیکل کوک تیار کیا جاتا ہے۔ یہ کوک حرارت فراہم کرتا ہے، آکسیجن چھیننے والے عامل کے طور پر کام کرتا ہے اور بلاسٹ فرنس میں ساختی سہارا فراہم کرتا ہے، جہاں کچا لوہا اور بعدازاں فولاد تیار کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق، اس کے بالواسطہ استعمالات فولاد کی تقریباً تمام بڑی مصنوعات تک پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بلٹس، سلیبز، بلومز، ریلوے کی پٹریاں، سریا، ساختی فولادی حصے، پلیٹیں، چادریں، تار بنانے کے لیے استعمال ہونے والی سلاخیں اور انجینئرنگ میں استعمال ہونے والا فولاد شامل ہیں۔

ڈاکٹر سلطان کھوسو نے کہا کہ میٹالرجیکل کوئلے کی دیگر اقسام بلاسٹ فرنس میں پسا ہوا کوئلہ داخل کرنے کے عمل، یعنی پلورائزڈ کول انجیکشن (پی سی آئی) میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میٹالرجیکل کوک فاؤنڈریوں میں کاسٹ آئرن تیار کرنے اور فیرو الائیز، کاربائیڈز اور بعض دیگر صنعتی مصنوعات کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے میٹالرجیکل کوئلے کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ اسے زیادہ تر تیار شدہ مصنوعات میں براہِ راست شامل کیا جاتا ہے، بلکہ اس کی اسٹرٹیجک اہمیت لوہا، فولاد، کوک اور فیرو الائیز کی پیداوار ممکن بنانے میں ہے۔ یہی مصنوعات تعمیرات، نقل و حمل، مشینری، انجینئرنگ، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور صنعت کاری کی بنیاد ہیں۔

کوئلے کی جانچ اور معیار بہتر بنانے کے ماہر ڈاکٹر فدا حسین چنہ نے مقامی کوئلے کو میٹالرجیکل مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنانے کے حوالے سے کہا کہ مقامی کوئلے کا معیار کوئلے کی صفائی، مختلف اقسام کو ملانے اور کنٹرول شدہ کاربنائزیشن کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاہم ہر قسم کے مقامی کوئلے کو اعلیٰ معیار کے میٹالرجیکل کوئلے میں تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

ڈاکٹر فدا چنہ کے مطابق، پہلا مرحلہ کوئلے میں راکھ، گندھک، نمی، متغیر مادے، مقررہ کاربن، حرارتی قدر اور کوک بنانے کی خصوصیات کی تفصیلی جانچ ہے۔ اس کے بعد موزوں کوئلے کو کچلنے، سائز کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے اور کثافت کی بنیاد پر الگ کرنے کے مراحل سے گزارا جا سکتا ہے، تاکہ راکھ پیدا کرنے والے معدنی اجزا اور پائرائٹ کی شکل میں موجود گندھک کو نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیادہ گندھک والے کوئلے پر میری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مناسب صفائی اور معیار بہتر بنانے کے عمل کے ذریعے راکھ اور گندھک کی مقدار میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ مقررہ کاربن کی مقدار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ میٹالرجیکل کوئلے میں چپکنے، پھولنے اور پلاسٹک جیسی حالت اختیار کرنے کی موزوں خصوصیات بھی ہونی چاہییں۔ اس لیے موزوں کوک تیار کرنے کے لیے مختلف خصوصیات کے حامل مقامی کوئلوں کو باہم ملانے کے بعد کنٹرول شدہ کاربنائزیشن کے عمل سے گزارنا ضروری ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مقامی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور درآمدی میٹالرجیکل کوئلے پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئلے کی منظم جانچ، صفائی اور مختلف اقسام کو ملانے کے پروگرام شروع کرنے چاہییں۔

میٹالرجیکل کوئلے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر فدا چنہ نے کہا کہ روایتی طریقے سے لوہا اور فولاد تیار کرنے کے لیے کوک بنانے میں استعمال ہونے والا بنیادی کاربن پر مشتمل خام مال ہونے کے باعث اس کی اسٹرٹیجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنٹرول شدہ کاربنائزیشن کے دوران موزوں کوئلے سے مضبوط اور مسام دار کوک تیار ہوتا ہے، جو بلاسٹ فرنس کے اندر کاربن فراہم کرنے کے ساتھ فزیکل سہارا بھی دیتا ہے۔ کوک کا معیار فرنس کی کارکردگی، پیداواری صلاحیت، توانائی کے استعمال اور تیار ہونے والے لوہے اور فولاد کے معیار پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، پاکستان میں موزوں مقامی میٹالرجیکل کوئلے کے وسائل کو ترقی دینے سے درآمدی خام مال پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے اور ملکی فولاد سازی کی صنعت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے کوئلے کی صفائی، معدنیات کی پراسیسنگ، تجربہ گاہوں میں جانچ اور متعلقہ صنعتوں میں نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ، ترقیاتی عمل کے ساتھ گندھک، راکھ، اخراج اور کانوں کی حفاظت پر سختی سے قابو پانا ضروری ہے۔ اس لیے مقصد صرف کوئلے کی پیداوار بڑھانا نہیں، بلکہ ایسا کوئلہ تیار کرنا ہونا چاہیے جس کی خصوصیات کی باقاعدہ جانچ کی گئی ہو، جس کا معیار بہتر بنایا گیا ہو اور جو تکنیکی طور پر مطلوبہ استعمال کے لیے موزوں ہو۔

Comments

200 حروف