BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.5%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 55.63 Decreased By ▼ -0.25 (-0.45%)
BIPL 24.49 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 28.32 Decreased By ▼ -0.21 (-0.74%)
CNERGY 12.47 Decreased By ▼ -0.41 (-3.18%)
DFML 15.95 Increased By ▲ 0.17 (1.08%)
DGKC 182.00 Increased By ▲ 2.97 (1.66%)
FABL 91.06 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 51.81 Increased By ▲ 0.51 (0.99%)
FFL 14.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.21%)
GGL 19.38 Decreased By ▼ -0.11 (-0.56%)
HBL 290.95 Increased By ▲ 1.18 (0.41%)
HUBC 192.74 Decreased By ▼ -0.10 (-0.05%)
HUMNL 8.71 Decreased By ▼ -0.44 (-4.81%)
KEL 5.83 Decreased By ▼ -0.18 (-3%)
LOTCHEM 24.58 Decreased By ▼ -0.37 (-1.48%)
MLCF 90.08 Increased By ▲ 0.85 (0.95%)
OGDC 300.58 Increased By ▲ 1.11 (0.37%)
PAEL 33.47 Decreased By ▼ -0.15 (-0.45%)
PIBTL 13.30 Decreased By ▼ -0.18 (-1.34%)
PIOC 231.15 Increased By ▲ 1.02 (0.44%)
PPL 214.98 Decreased By ▼ -3.87 (-1.77%)
PRL 103.47 Decreased By ▼ -5.34 (-4.91%)
SNGP 92.65 Increased By ▲ 2.93 (3.27%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.62 (2.72%)
TELE 7.02 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
TPLP 11.99 Increased By ▲ 0.46 (3.99%)
TRG 57.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.14 (-1.73%)
WTL 0.95 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

مذہبی اقلیتوں کیلئے مساوی حقوق کا وعدہ

  • اقلیتوں کا تحفظ محض قانون سازی کی تعمیل کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ انصاف، قانون کے سامنے مساوات اور جمہوری شہریت کے لیے ریاست کے عزم کا ایک بنیادی امتحان ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی مذہبی آزادی یا عقیدے کی آزادی سے متعلق تازہ ترین رپورٹ مذہبی اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کی ایک تشویش ناک تصویر پیش کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ قانون سازی محتاط امید کی بنیاد فراہم کرتی ہے، تاہم رپورٹ قانونی ضمانتوں اور روزمرہ زندگی کی حقیقتوں کے درمیان مسلسل موجود خلیج کو اجاگر کرتی ہے۔

اقلیتوں کا تحفظ محض قانون سازی کی تعمیل کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ انصاف، قانون کے سامنے مساوات اور جمہوری شہریت کے لیے ریاست کے عزم کا ایک بنیادی امتحان ہے۔ متعلقہ قانون سازی 2025 میں منظور ہونے کے باوجود قومی کمیشن برائے اقلیتوں کا قیام عمل میں نہ لایا جانا خاص طور پر تشویش ناک ہے۔

قوانین اس وقت تک اپنے مطلوبہ فوائد فراہم نہیں کرسکتے جب تک فعال، خودمختار اور مناسب اختیارات کے حامل ادارے موجود نہ ہوں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ بلا تاخیر یہ کمیشن قائم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس میں اقلیتی برادریوں کو بامعنی نمائندگی حاصل ہو۔

رپورٹ کا سب سے حساس پہلو توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال ہے۔ ایسے الزامات کی سنگینی اور ان کے ممکنہ تباہ کن سماجی اور قانونی نتائج کے پیش نظر ان مقدمات میں قانونی طریقۂ کار کی مکمل اور محتاط پابندی ضروری ہے۔ کسی الزام کو کبھی بھی جرم ثابت ہونے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اسے دھمکانے، قانون کو ہاتھ میں لینے یا ہجوم کے تشدد کے لیے بہانے کے طور پر استعمال ہونے دینا چاہیے۔

مسیحی برادریوں پر بار بار ہونے والے حملے، جن میں 2009 میں گوجرہ اور 2023 میں جڑانوالہ میں ہونے والا تشدد شامل ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے الزامات کس طرح اجتماعی سزا کا سبب بن سکتے ہیں اور پوری پوری برادریوں کو خطرے سے دوچار کرسکتے ہیں۔

دسمبر 2021 میں سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا واقعہ بھی اس کی ایک اور مثال ہے۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایسے مذہبی پوسٹروں کی بے حرمتی کی تھی جن پر حضور اکرم ﷺ کا نام درج تھا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب حقائق سامنے آنے سے پہلے الزامات اور افواہیں تشدد پر اکسانے کا سبب بن جائیں تو اس کے کتنے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کی ساکھ اور شفافیت کا تحفظ ضروری ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمات کی تحقیقات سینئر اور غیر جانب دار افسران کے ذریعے کی جانی چاہییں، جبکہ نتائج معتبر شواہد اور مناسب فرانزک جانچ پر مبنی ہونے چاہییں۔ منظم سازش کے ذریعے کسی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے، دھمکانے یا شواہد گھڑنے کے الزامات کی بھی، جہاں قابلِ اعتبار بنیادیں موجود ہوں، تحقیقات کی جانی چاہییں۔

اسی طرح ملزمان، گواہوں اور کارروائیوں میں شامل دیگر افراد کو دھمکیوں اور دباؤ سے محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

رپورٹ میں مسیحی اور ہندو لڑکیوں کو درپیش خطرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں اغوا، جبری شادی اور جبری مذہب کی تبدیلی شامل ہیں۔ غربت اور پولیس کی جانب سے مؤثر ردعمل کا فقدان اکثر ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ان تحفظات کو عملی شکل دینے کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد، قانونی معاونت تک رسائی اور جبر سے تحفظ فراہم کرنے والے اقدامات ناگزیر ہیں۔

دریں اثنا، دیگر اقلیتی گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک، بشمول مذہبی اظہار اور اجتماعات پر پابندیاں، مساوی شہریت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ملازمتوں میں ایسے طریقۂ کار جن کے نتیجے میں اقلیتیں غیر متناسب طور پر صفائی ستھرائی کے کاموں تک محدود ہوجاتی ہیں، تعلیمی نصاب سے اخراج اور مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں ناکافی نمائندگی جیسے عوامل ان کی محرومی اور تعصب کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ رپورٹ کی سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جائے، ملازمتوں میں امتیازی طریقۂ کار کا تدارک کیا جائے اور رواداری و تکثیریت کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی نصاب کا جائزہ لیا جائے۔

مجوزہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں کو قائم کرنے کے ساتھ ایسے اختیارات بھی دیے جانے چاہییں جن کے ذریعے وہ سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کرسکے اور متعلقہ حکام کو جواب دہ ٹھہرا سکے۔ ریاست کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فیصلے انتہا پسند گروہوں یا دیگر بااثر عناصر کے دباؤ سے متاثر نہ ہوں۔

ایک جمہوری معاشرے کا معیار محض ان حقوق سے متعین نہیں ہوتا جن کی ضمانت کاغذوں پر دی جاتی ہے، بلکہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ وہ ہر شہری کے وقار، تحفظ اور آزادیوں کی حفاظت کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایچ آر سی پی کی سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر بجا طور پر کہا کہ جمہوریت میں اقلیت اور اکثریت کا کوئی تصور نہیں ہونا چاہیے۔ اس اصول کو محض زبانی دعوؤں تک محدود رہنے کے بجائے عوامی پالیسی، اداروں کے طرزِ عمل اور سماجی رویوں کی تشکیل میں بھی شامل ہونا چاہیے، تاکہ کسی شہری کو ملنے والا تحفظ، مواقع اور انصاف اس کی مذہبی شناخت کا محتاج نہ ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف